مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,816 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,816
بزنس

پٹرولیم ڈیلرز کی 15 اگست سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان

📅 جمعرات، 13 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد 15 اگست سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پٹرول پمپس بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

مذاکرات کی ناکامی اور ڈیلرز کا مؤقف

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش کے مطابق حکومت اور ڈیلرز کے نمائندوں کے مابین کئی دور کے مذاکرات ہوئے، تاہم اہم مطالبات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ ڈیلرز کا ٹھوس مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں نے ان کے کاروبار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا ہے کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے، جہاں کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مطالبات اور حکومتی ردعمل

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے نظام کو ختم کیا جائے یا اس میں فوری اصلاحات لائی جائیں تاکہ ڈیلرز کو مالی نقصانات سے تحفظ مل سکے۔ ادھر، حکومتی حکام نے ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اسے وفاقی کابینہ سے منظور کروانے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ محض زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔ جس طرح پاکستان میں پہلی قومی پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے، اسی طرح پٹرولیم سیکٹر کے مسائل کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے۔

معاشی اثرات اور خدشات

ملک خدا بخش نے واضح کیا ہے کہ مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث کاروبار کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اگر حکومت نے 15 اگست سے قبل مطالبات کا قابلِ عمل حل نہ نکالا تو ہڑتال حتمی ہوگی، جس سے پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور نجی شعبے پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال میں این ڈی ایم اے کا 13 سے 15 اگست بارشوں اور سیلاب کا الرٹ بھی ایک اضافی چیلنج ہو سکتا ہے، جس کے باعث ایندھن کی قلت سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اب تمام تر نظریں حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والی آئندہ ممکنہ ملاقاتوں پر مرکوز ہیں کہ آیا ملک کو ایندھن کے بحران سے بچایا جا سکے گا یا نہیں۔

ٹیگز: #پٹرول بحران #پٹرولیم ڈیلرز #پی پی ڈی اے #ملک خدا بخش #ملک گیر ہڑتال
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں