لاہور چیمبر کا سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے اور ریلیف کا مطالبہ

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر تنویر احمد شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سپر ٹیکس کے ممکنہ مکمل خاتمے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کے اشاروں کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اسے ملک میں کاروبار کی لاگت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
کاروباری برادری کا طویل مدتی مطالبہ
لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر نے کہا کہ کاروباری برادری طویل عرصے سے موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کے بوجھ کو معقول بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سپر ٹیکس کاروباری اداروں پر اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے، جو ان کی سرمایہ کاری کرنے، آپریشنز کو وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں معاشی استحکام کے لیے وزیراعظم ایوارڈز 2026، ورچوئل یونیورسٹی کے دو طلبہ پاکستان کے ٹاپ 10 میں شامل جیسے اقدامات نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں، تاہم صنعتی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں۔
سپر ٹیکس کا خاتمہ اور سرمایہ کاری پر اثرات
تنویر احمد شیخ نے حکومت اور ایف بی آر پر زور دیا کہ وہ سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کاروباری برادری کو انتہائی ضروری ریلیف ملے گا، کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح حکومت نوجوانوں کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں رہنے دیں گے، وزیراعظم، نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی اور دیگر پروگراموں کا اجرا جیسے منصوبے لا رہی ہے، اسی طرح ٹیکس کا بوجھ کم کرنا بھی معیشت کے لیے ضروری ہے۔
کاروباری لاگت اور مسابقت
قائم مقام صدر نے وضاحت کی کہ اس وقت کاروباری ادارے بلند ان پٹ لاگت، توانائی کی قیمتوں اور دیگر آپریشنل اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے سے مجموعی طور پر کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی آئے گی اور پاکستانی صنعت کی مسابقت میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل میزان بینک آئندہ سال شریعہ کمپلائنٹ کریڈٹ کارڈ متعارف کرائے گا، جو مالیاتی نظام میں سہولت کا ایک اور اقدام ہے۔
ٹیکس نیٹ کی وسعت اور معیشت کی دستاویز کاری
تنویر احمد شیخ نے سیلز ٹیکس کی شرح میں ممکنہ کمی کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ ایک کم اور معقول سیلز ٹیکس کی شرح سے کاروبار اور صارفین دونوں پر بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ نئے شعبوں اور ٹیکس نہ دینے والے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے نہ صرف حکومتی محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ایک منصفانہ اور متوازن ٹیکس نظام بھی تشکیل پائے گا۔
مستقبل کی توقعات
آخر میں تنویر احمد شیخ نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر کی جانب سے دی گئی مثبت یقین دہانیوں کو جلد ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک پیشگوئی کے قابل، سادہ اور کاروبار دوست ٹیکس نظام صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے فروغ اور ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
