مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
قومی

شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت

واشنگٹن۔11 اگست: امریکا نے شام، اسرائیل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان شام کے ایک خفیہ مقام پر موجود جوہری مواد کو محفوظ بنانے اور وہاں سے منتقل کرنے کے لیے ایک سفارتی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے ’’سائٹ 99‘‘ نامی خفیہ مقام پر موجود جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی منتقل کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا کو خدشہ تھا کہ معاملہ اسرائیل، شام اور ممکنہ طور پر ترکی کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل گزشتہ دو برس سے سائٹ 99 کی نگرانی کر رہا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق سابق صدر بشار الاسد کی حکومت نے اس مقام پر الکِبر جوہری پروگرام سے متعلق مواد ذخیرہ کیا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق وہاں موجود مواد میں یلو کیک بھی شامل ہے، جو یورینیم سے حاصل ہونے والا ایسا مواد ہے جسے جوہری ایندھن کے چکر میں مزید پراسیسنگ اور افزودگی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق سائٹ پر موجود مواد براہ راست جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں، البتہ اسے ریڈیولوجیکل ’’ڈرٹی بم‘‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اس مقام کے داخلی راستوں پر بمباری کی تھی تاکہ وہاں موجود مواد تک رسائی روکی جا سکے۔ اسرائیل نے امریکا کو یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ اس مقام پر جوہری مواد کی موجودگی برداشت نہیں کرے گا اور اگر شام کی جانب سے مواد تک رسائی کی کوشش کی گئی تو دوبارہ حملے کا خطرہ موجود تھا۔

امریکا اور اسرائیل نے بعد ازاں یہ فیصلہ کیا کہ شام کی نئی حکومت کو اعتماد میں لے کر مواد کو ہٹایا جائے۔ جب امریکی انتظامیہ نے شامی حکومت کے سامنے معاملہ اٹھایا تو شامی حکام نے کہا کہ انہیں اس مقام پر جوہری مواد کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق چند ہفتے قبل اسرائیلی نگرانی میں سائٹ کے اطراف نقل و حرکت دیکھی گئی، جس سے اسرائیل کو خدشہ ہوا کہ شام کی نئی حکومت ممکنہ طور پر سابقہ مفاہمت سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور جوہری مواد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کو یہ خدشہ بھی تھا کہ ترکی شام کی حکومت کو مواد تک رسائی میں مدد دے سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے اسرائیل سے کسی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کو کہا اور معاملے میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو شامل کیا۔ نتیجتاً IAEA اور شامی حکومت کے درمیان تقریباً تین ہفتے قبل جوہری مواد سائٹ سے ہٹانے کا معاہدہ طے پایا۔

تاہم Axios کے مطابق جوہری مواد ابھی تک سائٹ 99 سے منتقل نہیں کیا گیا اور آپریشن جاری ہے۔ امریکی حکام کو توقع ہے کہ مواد کی منتقلی جلد شروع ہوگی اور اسے رواں سال کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں