قطر کا مصر میں 30 ارب ڈالر کا منصوبہ، دور دراز ساحلی علاقہ عالمی معیار کا شہر بنے گا

قطر کا مصر میں 30 ارب ڈالر کا منصوبہ، دور دراز ساحلی علاقہ عالمی معیار کا شہر بنے گا
قاہرہ۔11 اگست: قطر کی خودمختار دولت فنڈ سے وابستہ رئیل اسٹیٹ کمپنی قطری دیار نے مصر کے شمال مغربی بحیرہ روم کے ساحل پر ایک بڑے سیاحتی اور رہائشی منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے، جس پر مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
بزنس انسائیڈر افریقہ کے مطابق العالم الروم (Alam El-Roum) کے نام سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر تقریباً 4.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جس کا مقصد ایک دور دراز ساحلی علاقے کو سال بھر فعال رہنے والے جدید شہری اور سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ علاقہ قاہرہ سے تقریباً 480 کلومیٹر شمال مشرق میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ منصوبے میں لگژری رہائشی یونٹس، ہوٹلز، گالف کورسز، مریناز، کھیلوں کی سہولیات، تعلیمی ادارے اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا۔
منصوبے کے تقریباً 85 فیصد حصے کو کھلے علاقوں کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ 195 ہزار مربع میٹر پر مصنوعی جھیلیں بھی تعمیر کی جائیں گی، جہاں تیراکی اور کشتی رانی سمیت مختلف تفریحی سرگرمیوں کی سہولت ہوگی۔ منصوبے میں 50 کشتیوں کی گنجائش رکھنے والی ایک مرینا بھی شامل ہے۔
العالم الروم منصوبے میں چار ہوٹلز تعمیر کیے جائیں گے جن میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد کمرے ہوں گے۔ اس کے علاوہ کھیلوں کے مراکز، ریٹیل اسٹورز اور بین الاقوامی ریستوران بھی قائم کیے جائیں گے۔
قطری دیار کے چیف ایگزیکٹو شیخ حمد بن طلال آل ثانی کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے سے تقریباً 30 ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ محض ایک سیاحتی ریزورٹ نہیں بلکہ عالمی معیار کے ایک مربوط شہری مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا جو پورا سال فعال رہے گا۔
قطر کی جانب سے اس منصوبے میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 29.5 سے 29.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس میں زمین کے لیے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی اور منصوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے مزید 26 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
یہ منصوبہ مصر اور قطر کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔ قطر کی جانب سے مصر میں اس بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قاہرہ بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے مالی دباؤ، قرضوں اور بجٹ خسارے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھایا ہے۔ رواں سال مصر اور قطر نے مائع قدرتی گیس کی فراہمی میں اضافے اور گیس کی تلاش، پراسیسنگ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری و تکنیکی تعاون کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے۔
