پاکستان کو معاشی استحکام کیلئے سالانہ 7 فیصد شرح نمو درکار

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے 2040ء تک ملکی آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کے تخمینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں زور دیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں معاشی ترقی کی موجودہ رفتار انتہائی سست ہے اور پاکستان کی معیشت کو آئندہ برسوں میں کم از کم 6 سے 7 فیصد سالانہ حقیقی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی تاکہ عوام کے لیے روزگار، تعلیم، صحت، رہائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
معاشی اہداف اور چیلنجز
عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً 407 ارب ڈالر اور فی کس آمدن تقریباً 1596 ڈالر رہی، جبکہ معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو آبادی میں اضافے کے دباؤ کے پیش نظر ناکافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 2040ء تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچتی ہے تو صرف موجودہ فی کس آمدن برقرار رکھنے کے لیے بھی معیشت کا حجم تقریباً 640 ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، تاہم معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اسحاق ڈار کی کانگو اور گنی بساؤ کے رہنماؤں سے گفتگو کے تناظر میں بین الاقوامی روابط کے ساتھ ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ترقی کا لائحہ عمل
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر فی کس آمدن کو 5 ہزار ڈالر تک لے جانا ہے تو 40 کروڑ آبادی کے لیے معیشت کا حجم تقریباً 2 کھرب ڈالر جبکہ 6 ہزار ڈالر فی کس آمدن کے لیے تقریباً 2.4 کھرب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے برآمدات، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، ٹیکس وصولی اور پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے کی ضرورت ہے۔ روس افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے راستے بحر ہند تک ریل چلانے کا خواہشمند ہے، ایسے منصوبوں سے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پیاف کے رہنماؤں نے کہا کہ نوجوان آبادی کو بوجھ کے بجائے معاشی قوت بنانے کے لیے طویل المدتی پالیسی اور مسلسل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ حکومت کو 2040ء کے ممکنہ آبادیاتی منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے قومی سطح پر جامع معاشی و سماجی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، جس طرح خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا خصوصی بچوں کی فلاح کیلئے عزم جیسے اقدامات سماجی بہتری کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح معیشت کی بہتری کے لیے بھی ٹھوس پالیسیاں تشکیل دی جائیں تاکہ بڑھتی آبادی پاکستان کے لیے بحران کے بجائے ترقی کا ذریعہ بن سکے۔
