مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,694 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,694
بزنس

جدید کیپٹل مارکیٹس کا قیام اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، شاہد عمران

📅 اتوار، 09 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
جدید کیپٹل مارکیٹس کا قیام اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، شاہد عمران
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ ایوان ہائے وفاقی صنعت و تجارت کی ذیلی کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا میں جدید کیپٹل مارکیٹس کے قیام، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور ٹیکنالوجی کی جدت ناگزیر ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور خطے میں معاشی استحکام کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔

علاقائی تعاون اور مالیاتی ہم آہنگی

اتوار کے روز تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد عمران نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی صورتحال میں کوئی بھی ملک تنہائی میں معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سارک (SAARC) ممالک کو اپنے مالیاتی نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے، باہمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے پر بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد کیلئے اہم پیش رفت ہے، اسی طرح معاشی میدان میں بھی اجتماعی کاوشیں خطے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات

شاہد عمران کا کہنا تھا کہ مربوط کیپٹل مارکیٹس کا قیام نہ صرف سرحد پار سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ وسائل کے بہتر استعمال اور عالمی سرمایہ کاروں کو خطے کی طرف راغب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے جدید مالیاتی ٹیکنالوجی، بہتر گورننس اور شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے ایشیائی منڈیوں کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ پاک، سعودیہ، ترکیہ معاہدے میں جنرل عاصم منیر کا کردار کلیدی ہے اور اسی طرح کی تزویراتی بصیرت معاشی پالیسیوں میں بھی درکار ہے۔

حکومتی اور نجی شعبے کا کردار

آخر میں شاہد عمران نے کہا کہ حکومتوں کو کارپوریٹ سیکٹر، چیمبرز آف کامرس اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسی سرمایہ کار دوست پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں جو طویل مدتی فوائد کی حامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سارک کے اندر اقتصادی تعاون بڑھانے سے تجارتی حجم اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بالآخر خطے کے عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔

ٹیگز: #سارک #شاہد عمران #علاقائی تعاون #کاروباری خبریں #کیپٹل مارکیٹس
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں