مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,820 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,820
قومی

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت

📅 اتوار، 09 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ گزشتہ دو روز سے جاری بحث اور دلچسپی کے پیشِ نظر، اس معاہدے سے متعلق پس منظر اور وضاحت درج ذیل ہے:

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پس منظر

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ، 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ طور پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا عکاس کرتا ہے۔ پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ اور علاقائی امن کے لیے اہم پیش رفت ہے، بزنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ یہ اسٹریٹجک اقدام خطے میں استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اسٹریٹجک تعاون اور مقاصد

یہ معاہدہ کئی برس سے جاری بات چیت اور باہمی رابطوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد امن و سلامتی کے مختلف چیلنجوں سے نمٹنے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ مکہ معاہدہ اِن ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کسی بھی دوطرفہ یا کئی فریقوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو منسوخ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی جگہ لیتا ہے۔ اسی طرح، یہ ان ممالک کے دیگر ملکوں یا تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کو بھی متاثر نہیں کرتا۔ جیسا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ: عالمی ردعمل اور خطے کا بدلتا سکیورٹی منظرنامہ میں تجزیہ کیا گیا ہے، یہ اقدام ایک نئی علاقائی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔

دفاعی دفعات اور علاقائی شمولیت

تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے مطابق ہے۔ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے جو کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا واحد مقصد وسیع تر خطے میں امن کے لیے کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یاد رہے کہ اسحاق ڈار کا آسیان کی امن و خوشحالی کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی اسی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ مکہ معاہدہ خطے کے ہر اُس ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے اور اختلافات کو باہمی احترام، تعاون اور پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے لیے تیار ہو۔

خارجہ پالیسی کا عزم

مکہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے۔ پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تمام برادر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہش مند ہے۔ ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور اپنے عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم پر قائم ہیں۔

ٹیگز: #اسحاق ڈار #پاکستان #ترکیہ #سعودی عرب #مکہ معاہدہ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں