پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کا قومی کھلاڑیوں کے اعزازیے میں اضافہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) نے بصارت سے محروم قومی کرکٹرز کی فلاح و بہبود اور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 18 قومی بلائنڈ کرکٹرز کے ماہانہ اعزازیے میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی جانب سے حالیہ ملکی مقابلوں میں پیش کی گئی شاندار اور مسلسل کارکردگی کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔
کھلاڑیوں کی مالی معاونت کا اقدام
منگل کو پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، نظرثانی شدہ اعزازیہ جولائی سے دسمبر 2026 تک 6 ماہ کے عرصہ کے لیے ‘پلیئر سپورٹ پروگرام’ کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کھلاڑیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کونسل نے تمام کیٹیگریز میں ماہانہ وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ جس طرح وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا لکی مروت آپریشن پر خراجِ تحسین پیش کرنا کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھاتا ہے، اسی طرح یہ مالی اقدام بھی قومی ہیروز کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔
اعزازیے کی نئی درجہ بندی
نظرثانی شدہ پیکج کے مطابق کیٹیگری اے کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 32 ہزار روپے، کیٹیگری بی کے کھلاڑیوں کو 26 ہزار روپے جبکہ کیٹیگری سی کے کھلاڑیوں کو 22 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا۔ کیٹیگری اے میں بدر منیر اور کامران اختر شامل ہیں۔ کیٹیگری بی میں نثار علی، مطیع اللہ، محمد صفدر اور محمد راشد کو جگہ دی گئی ہے، جبکہ کیٹیگری سی میں محمد شاہزیب، معین اسلم، بابر علی، نعمت اللہ، ثناء اللہ مروت، اسرار حسن، محسن خان، جنید خان، طلحہ اقبال، محمد ادریس سلیم، نعیم اللہ اور انیس جاوید شامل ہیں۔ یہ مالی استحکام کھیلوں کے میدان میں ویسا ہی اہم ہے جیسے این ویڈیا کے شیئرز میں گراوٹ کے بعد معاشی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے۔
سید سلطان شاہ کا عزم
پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سید سلطان شاہ نے منتخب کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کونسل بصارت سے محروم باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ انہوں نے پرامید لہجے میں کہا کہ تمام کھلاڑی مستقبل میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے مزید کامیابیاں سمیٹیں گے۔ یہ اقدام ملکی کھیلوں کے فروغ کے لیے ویسا ہی اہم ہے جیسے پاک۔ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔
