این ویڈیا کے شیئرز میں گراوٹ، ایپل دوبارہ دنیا کی قیمتی ترین کمپنی

نیویارک (نمائندہ خصوصی)۔ وال اسٹریٹ اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ہلچل مچانے والی ایک اہم پیش رفت میں معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل (Apple) ایک بار پھر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن گئی ہے۔ ایپل نے یہ اعزاز مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں نمایاں مقام رکھنے والی چپ ساز کمپنی این ویڈیا (Nvidia) کو پیچھے چھوڑ کر دوبارہ حاصل کیا۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب مارکیٹ کھلتے ہی این ویڈیا کے شیئرز شدید دباؤ کا شکار ہوئے اور ان کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو متاثر ہوئی۔ چین میں چار فلک بوس عمارتوں کو جوڑنے والی دنیا کی منفرد افقی عمارت "دی کرسٹل” کی طرح ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مسلسل نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
این ویڈیا کا عروج اور مارکیٹ کی بدلتی صورتحال
کچھ عرصے سے این ویڈیا عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور جدید AI چپس کی بے مثال طلب نے کمپنی کے شیئرز کو ریکارڈ بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ اسی مضبوط کارکردگی کے باعث این ویڈیا نے ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
منافع بکنگ اور اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل
تاہم، حالیہ تجارتی سیشن کے آغاز پر منظرنامہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر منافع حاصل کرنے (Profit Booking) اور مجموعی طور پر غیر یقینی معاشی صورتحال کے باعث این ویڈیا کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ اس کمی کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی خاطر خواہ کمی آئی، جبکہ دوسری جانب ایپل کے شیئرز نسبتاً مستحکم رہے، جس سے کمپنی دوبارہ دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی کمپنی بننے میں کامیاب ہوگئی۔ عطا اللہ تارڑ کی احسن اقبال سے ملاقات، پی ٹی وی کی ری ویمپنگ پر اتفاق کے برعکس عالمی سطح پر کارپوریٹ سیکٹر میں یہ مقابلہ کافی سخت نوعیت کا ہے۔
ایپل اور این ویڈیا: ٹیکنالوجی کا دلچسپ مقابلہ
ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں اس وقت ایپل، این ویڈیا اور مائیکروسافٹ کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بننے کی دوڑ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق تینوں کمپنیاں اپنی مضبوط مالیاتی بنیاد، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل جدت کی بدولت سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں ان کی پوزیشن مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ پاک۔ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس، تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کی طرح ان بڑی کمپنیوں کے مالیاتی اہداف بھی عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کے امکانات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ این ویڈیا کی غیر معمولی ترقی کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں استعمال ہونے والی جدید چپس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب ہے، کیونکہ دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں AI ماڈلز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے این ویڈیا کی چپس پر انحصار کر رہی ہیں۔ دوسری جانب ایپل اپنی مضبوط سپلائی چین، آئی فون کی عالمی سطح پر مسلسل فروخت، سروسز بزنس کی مستحکم آمدنی اور اپنے ایکو سسٹم (Ecosystem) میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے فیچرز متعارف کرانے کی حکمت عملی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق وال اسٹریٹ میں اس وقت غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں چند گھنٹوں یا چند دنوں کے دوران اربوں ڈالرز کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ یا کمی معمول بنتا جا رہا ہے۔ معاشی اور مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اسٹاک مارکیٹ، خصوصاً ٹیکنالوجی سیکٹر، اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات اور غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے سرمایہ کاروں کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی روایتی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی مضبوط مالیاتی پوزیشن، مستحکم کاروباری ماڈل اور مسلسل جدت کی بدولت اب بھی عالمی مارکیٹ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے یہ اتار چڑھاؤ جہاں ایک جانب خطرات کا باعث بن سکتا ہے، وہیں دوسری جانب منافع کمانے کے نئے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ فی الحال ایپل کے لیے یہ ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے کہ اس نے سخت عالمی مسابقت اور بدلتے ہوئے مارکیٹ رجحانات کے باوجود ایک بار پھر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں یہ مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
