سونی کا گردن پر پہننے والا نیا کولنگ ڈیوائس توجہ کا مرکز

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی سونی کا گردن پر پہننے والا ذاتی کولنگ ڈیوائس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت شدید گرمی میں وقتی ریلیف فراہم کرنے کے منفرد طریقہ کار کے باعث عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ جدید آلہ روایتی ایئر کنڈیشنر کی طرح اردگرد کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے جسم کے ایک مخصوص حصے کو ٹھنڈا کرکے صارف کو گرمی کم محسوس ہونے میں مدد دیتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈیوائس لباس کے اندر گردن کے نچلے حصے پر پہنا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت محسوس کرنے والے انسانی اعصابی مراکز نسبتاً زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ یہ ڈیوائس جدید تھرمو الیکٹرک (Peltier) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جلد کے اس مخصوص حصے کا درجہ حرارت فوری طور پر کم یا زیادہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں صارف کو اپنے جسم میں فوری ٹھنڈک یا حرارت کا احساس ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا موازنہ اکثر چھ ہندسوں کی کمائی والے 10 بہترین چھوٹے کاروباری آئیڈیاز جیسے جدید ایجادات کے ساتھ کیا جا رہا ہے جو صارفین کی زندگیوں میں آسانی لانے کا باعث بنتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی افادیت اور حدود
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس کسی بند کمرے یا کھلی جگہ کے مجموعی درجہ حرارت کو کم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے اسے روایتی ایئر کنڈیشنر کا متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم ذاتی استعمال کے لیے یہ محدود پیمانے پر گرمی کے شدید احساس کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیقی جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گردن کے حصے کو ٹارگٹ کرنے والی یہ کولنگ ٹیکنالوجی انسانی جسم میں حرارت کے احساس کو کم کرنے اور جسمانی سکون میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ اس سے جسم کا اندرونی درجہ حرارت نمایاں طور پر کم نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ سونی کی جانب سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایسی جدت طرازی واٹس ایپ کا بزنس پیغامات کے لیے خصوصی فولڈر متعارف کرانے کا فیصلہ جیسی دیگر ٹیکنالوجی خبروں کی طرح صارفین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
کس کے لیے مفید؟
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے ذاتی کولنگ ڈیوائسز شدید گرمی میں سفر کرنے والے افراد، کھلے ماحول میں کام کرنے والے محنت کشوں، کھلاڑیوں اور ایسے صارفین کے لیے بے حد مفید ہو سکتے ہیں جنہیں محدود وقت کے لیے ذاتی سطح پر فوری ٹھنڈک درکار ہو۔ اس حوالے سے مزید معلومات اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی کشتیوں پر ویسل مانیٹرنگ سسٹم جیسے تکنیکی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ شدید گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے پانی کا مناسب استعمال، سایہ دار مقامات پر قیام اور دیگر حفاظتی احتیاطی تدابیر بدستور ضروری ہیں۔ اس ڈیوائس کو صرف ایک اضافی سہولت کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ ہیٹ ویو جیسی صورتحال سے بچاؤ کا واحد ذریعہ۔
