قومی

مریم نواز کا پوٹھوہار میں 800 منی ڈیم بنانے کا منصوبہ، پانی کے تحفظ کے لیے بڑا اقدام
خبر:
لاہور، 31 جولائی: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پانی کے تحفظ، بارشی پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے اور زرعی شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے پوٹھوہار خطے میں آئندہ تین برس کے دوران 800 منی ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت زرعی شعبے کی بہتری اور آبی وسائل کے انتظام سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پانی کے تحفظ اور زیرِ زمین پانی کے مؤثر استعمال سے متعلق مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے واٹر کنزرویشن پروگرام کے تحت اب تک 110 منی ڈیم مکمل کیے جا چکے ہیں۔
مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بارشی پانی کو زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کے لیے سطحی آبی ذخائر کی ترقی کا جامع منصوبہ تیار کیا جائے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے مؤثر انتظام سے متعلق قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پوٹھوہار میں تعمیر کیے جانے والے 800 نئے منی ڈیم تقریباً 32 ہزار ایکڑ فٹ اضافی بارشی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں گے، جس سے بارانی علاقوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ، پانی کی دستیابی بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں مکمل ہونے والے منی ڈیموں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جو مقامی سطح پر پانی کے ذخیرے اور آبپاشی کی سہولت میں بہتری لا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانی کا مؤثر تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اور جو قومیں اپنے آبی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کرتی ہیں، وہ مستقبل کے ماحولیاتی اور زرعی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہیں۔
انہوں نے زراعت، آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کے محکموں کو باہمی تعاون کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی، جبکہ پانی کے تحفظ اور نگرانی کے لیے خصوصی عملہ بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پانی کی ترسیل کے دوران 30 فیصد اور استعمال کے دوران 25 فیصد تک ضیاع کم کرنے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ اب تک 2,600 آبی گزرگاہوں کی لائننگ مکمل کی جا چکی ہے، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 7 ہزار کلومیٹر ہے، جس سے پانی کی بچت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
حکام نے بتایا کہ آئندہ تین برسوں میں مزید 4,500 آبی گزرگاہوں کی لائننگ کی جائے گی، جن کی مجموعی لمبائی 11 ہزار 500 کلومیٹر ہوگی، تاکہ آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے اب تک 18 ہزار ایکڑ فٹ پانی محفوظ کیا جا چکا ہے جبکہ فصلوں کی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئندہ تین برسوں میں مزید 30 ہزار ایکڑ رقبے کو ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی نظام کے تحت لایا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں 100 ری چارج ویلز فعال ہیں جبکہ مزید 300 ری چارج ویلز کی تعمیر آخری مراحل میں ہے، جن سے زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
کاشتکاروں کی سہولت کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے رواں مالی سال کے دوران ایک ہزار لیزر لینڈ لیولرز 50 فیصد سبسڈی پر فراہم کرنے کی بھی منظوری دی، تاکہ زمین کی بہتر ہمواری، پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
