مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659
قومی

کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو سب کچھ الٹ دیں گے، نئے صوبے بنانا ہوں گے، محسن نقوی

📅 جمعرات، 30 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 8 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ نظام حکمرانی میں بنیادی اور وسیع پیمانے پر اصلاحات، نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام اور سیاسی اتفاق رائے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، اب بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاہم ملک کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے اس موضوع پر بات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نظام کے تحت ملک چل رہا ہے وہ ’’گر چکا ہے‘‘ اور اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو دس سال بعد بھی پاکستان انہی مسائل پر بحث کر رہا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی طرف جانا ہوگا، نام خواہ انتظامی یونٹ رکھا جائے یا صوبہ، اصل مقصد حکومت، انصاف، بنیادی سہولیات اور فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہوگا اور اس مسئلے کو عوام کے سامنے بھی لے جانا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے ملک کے مستقبل کے لیے بنیادی نوعیت کے فیصلے کرنا ہوں گے۔ محسن نقوی نے کہا کہ عام شہری کو بنیادی سہولیات، سرکاری اداروں اور انصاف تک رسائی کے لیے گھنٹوں سفر نہیں کرنا چاہیے۔ انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنے سے حکمرانی بہتر، فیصلہ سازی تیز اور عوامی مسائل کا حل آسان بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور نمائندوں نے اکنامک سمٹ کے دوران حکمرانی، عوامی خدمات اور معاشی ترقی سے متعلق تقریباً ایک جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق پاکستان کا عالمی تشخص بہتر ہو رہا ہے اور ملک میں معاشی مواقع بھی موجود ہیں، تاہم کمزور حکمرانی اور پرانے انتظامی ڈھانچے کے باعث ان مواقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ جیسا کہ سعودی فالکن وژن گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں مواقع موجود ہیں، ضرورت صرف انتظامی بہتری کی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے مضبوط حامی ہیں تاہم جمہوریت کو مؤثر اور جوابدہ انتظامی نظام کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کو وقتی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش دراصل صرف ’’فائر فائٹنگ‘‘ ہے، جب تک ادارہ جاتی بنیادوں کو درست نہیں کیا جائے گا مستقل نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نئی نسل کو چند ہزار روپے، لیپ ٹاپ یا عارضی مالی امداد نہیں بلکہ میرٹ، روزگار، مساوی مواقع اور بہتر نظام چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے حوالے سے ’’کاکروچ‘‘ کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے ’’کاکروچ‘‘ اکٹھے ہوگئے تو ’’سب کچھ الٹ سکتے ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بے چینی بڑھنے اور وہ منظم انداز میں اپنے مطالبات سامنے لانے سے پہلے ہی نظام میں اصلاحات کرکے ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ ان کی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان کے مالی مسائل اور قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں بجٹ خسارے سے شروع کرتی ہیں اور پھر مزید قرض لینے کی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے، جبکہ بنیادی انتظامی اور ادارہ جاتی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن مستقل اصلاحات کے بجائے اکثر وقتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو اس دائرے سے باہر نکالنے کے لیے سیاسی قیادت کو وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک جگہ بیٹھیں اور نئے صوبوں، انتظامی یونٹس، حکمرانی اور دیگر بنیادی قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں چاہیں تو اس مقصد کے لیے ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال تک بھی مذاکرات کریں، لیکن ملک کے بنیادی مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری افراد میں پیچیدہ مسائل حل کرنے کی انتظامی صلاحیت موجود ہے، انہیں صرف انتخابی مہمات کی مالی معاونت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ملک کے سیاسی اور معاشی مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ جس طرح یوسف رضا گیلانی کا جنوبی کوریا سے بائیوٹیکنالوجی و آئی ٹی تعاون پر زور دے رہے ہیں، اسی طرح نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کاروباری برادری کو خود بھی ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہوگا اور سیاسی عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک کی معاشی صلاحیت کو حقیقی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے بہتر حکمرانی اور مؤثر اداروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت حکومتی رہنما سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن صرف زیادہ گھنٹے کام کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جب تک نظام کی بنیادی خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، حکومتیں بحرانوں سے نمٹنے میں ہی مصروف رہیں گی۔ انرجی کنزرویشن فنڈ کا الیکٹرک وہیکل ریگولیشنز پر آگاہی سیشن جیسے اقدامات تب ہی ثمر آور ہوں گے جب انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوگا۔ محسن نقوی نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے معاملے پر پارلیمنٹ، جامعات، کالجز، میڈیا اور سول سوسائٹی میں کھل کر بحث ہونی چاہیے اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کا فیصلہ وسیع تر عوامی اور سیاسی مشاورت سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اس وقت جامع اصلاحات کا ایک نادر موقع حاصل ہے۔ اگر سیاسی قیادت، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی مل کر بنیادی اصلاحات پر اتفاق کرلیں تو ملک کو پائیدار سیاسی استحکام، بہتر حکمرانی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ قومی اتحاد اور اجتماعی اقدام کے ذریعے ہی پاکستان کو درپیش بنیادی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

ٹیگز: #انتظامی اصلاحات #پاکستان کی معیشت #محسن نقوی #نئے صوبے #نوجوان
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں