پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کیلئے قائم کمیٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اس کمیٹی نے ملک میں پٹرولیم سیکٹر کے مستقبل اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔ اجلاس میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے قائم ذیلی کمیٹیوں نے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے مختلف پہلوؤں سے متعلق اپنی سفارشات اور نتائج پیش کیے، جبکہ کے پی ایم جی (KPMG) نے خطے میں پٹرولیم کی قیمتوں اور ٹیکس کے ڈھانچے کا موازنہ کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر انرجی کنزرویشن فنڈ کا الیکٹرک وہیکل ریگولیشنز پر آگاہی سیشن اور اسی طرح کے دیگر اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ توانائی کے شعبے میں پائیداری لائی جا سکے۔ کمیٹی کے اراکین نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فارمولے، نئے پٹرولیم پرائسنگ میکنزم میں شفافیت بڑھانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن ایک واضح، مرحلہ وار اور قابل پیمائش روڈ میپ کے تحت ہونی چاہیے، جس میں پیش رفت جانچنے کے لیے مخصوص اہداف اور سنگ میل مقرر کیے جائیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں، قابل اطلاق قیمتوں کے تعین کے فارمولے اور متعلقہ پلیٹس ڈیٹا سے متعلق معلومات دستیاب ہیں، جس سے شفافیت اور عوام کی معلومات تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ اجلاس کے دوران اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور مجوزہ پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں ان کے کردار پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن یقینی بنانے کا ذمہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ نظام میں شفافیت، ٹریس ایبلٹی، استعداد اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی اور اس کے مسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے ڈھانچے پر اثرات پر بھی غور کیا گیا، جبکہ آئی ایف ای ایم (IFEM) پول کا بھی جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ کمیٹی ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات پر غور کا عمل جاری رکھتے ہوئے پٹرولیم شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک جامع روڈ میپ مرتب کرے گی تاکہ شفافیت، مسابقت، استعداد اور صارفین کے تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ جس طرح سعودی فالکن وژن گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، اسی طرح توانائی کے شعبے میں بہتری ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ حکومت اس بات پر بھی متوجہ ہے کہ جیسے یوسف رضا گیلانی کا جنوبی کوریا سے بائیوٹیکنالوجی و آئی ٹی تعاون پر زور دیا گیا، ویسے ہی توانائی کی ٹیکنالوجی میں بھی جدت لائی جائے۔
