مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,515 USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,515
قومی

حکومت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چار سالہ حج پالیسی کا اعلان

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
حکومت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چار سالہ حج پالیسی کا اعلان
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے 2027ء سے 2030ء تک کے لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی طویل المدتی چار سالہ حج پالیسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر تیار کی گئی یہ پالیسی حج انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور عازمین کو باوقار سفری سہولیات فراہم کرنے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت عازمین حج کے لیے فی کس پیکج اندازاً 12 سے 13 لاکھ روپے کے درمیان تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری اور نجی اسکیم کے درمیان 60 اور 40 فیصد کا کوٹہ برقرار رکھا جائے گا اور کوٹے میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافہ کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کے پاس ہوگا۔

چار سالہ پالیسی اور رجسٹریشن میں آسانی

سردار محمد یوسف نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چار سالہ رجسٹریشن اور ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کی سہولت دی جا رہی ہے، جس کے تحت عازمین اندازاً حج اخراجات کی محض 10 فیصد رقم جمع کروا کر درخواست دے سکیں گے اور رجسٹریشن حاصل کر سکیں گے۔ اس چار سالہ پالیسی کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں رہائش، کیٹرنگ اور ٹرانسپورٹ کے طویل المدتی معاہدے کرنا ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام تر خریداریاں اور معاہدے شفاف طریقے سے کیے جائیں گے، اور واجبات کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے گی وہ عازمین کو واپس کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات وفاقی وزارتِ تعلیم کا گریڈ 6 تا 8 کیلئے ڈیجیٹل لرننگ مینجمنٹ سسٹم شروع کرنے کا اعلان کی طرز پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ کا حصہ ہیں۔

نگرانی کا نظام اور نجی آپریٹرز

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت وزارتِ مذہبی امور کی ذمہ داریوں میں ریگولیشن اور سخت نگرانی کا عنصر شامل کیا گیا ہے۔ نجی حج آپریٹرز کی رجسٹریشن اور کوٹے کی تقسیم اب محض روایتی بنیادوں کے بجائے ان کی کارکردگی اور معیاری سروسز سے مشروط ہوگی۔ عازمین کی سہولت اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پورٹل اور اپیل کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جبکہ عازمین کی تربیت کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ "حجاج محافظ اسکیم” کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ جیسا کہ حکومتی حلقوں میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیرِ خارجہ کی ملاقات جیسے امور پر توجہ دی جا رہی ہے، اسی طرح حج انتظامات میں بھی شفافیت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ یہ پالیسی سعودی وژن 2030 کے عین مطابق ترتیب دی گئی ہے جو 2027 سے 2030 تک حج انتظامات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی، کیونکہ حکومت کی اصل ذمہ داری صرف سفر کا انتظام نہیں بلکہ عازمین کو ایک باوقار اور آرام دہ روحانی سفر فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں رانا مشہود نے کامن ویلتھ ٹاسک فورس میں پاکستان کا مؤقف دہرایا اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی پاکستان کی بہتر ساکھ کے لیے کوشاں ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں