فرانس کے فلسطینی ریاست حمایت پر اقوام متحدہ میں امریکی سفارت کاروں کا واک آؤٹ
نیویارک (نمائندہ خصوصی)۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے اعلانیہ دفاع پر امریکی سفارت کاروں نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، جس سے اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے مغربی اتحادیوں کے درمیان موجود گہرے اختلافات ایک بار پھر دنیا پر عیاں ہو گئے۔
سلامتی کونسل میں فرانسیسی مؤقف اور امریکی ردعمل
اقوام متحدہ میں ہونے والا سلامتی کونسل کا یہ اہم اجلاس فرانس کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں فرانسیسی مندوب نے صدر ایمانوئل میکرون کے اس حالیہ اعلان کا بھرپور دفاع کیا کہ فرانس رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔ اس اقدام کے بعد فرانس جی سیون (G7) ممالک کے گروہ میں ایسا کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ اجلاس کے دوران امریکی وفد نے جیسے ہی فرانسیسی نمائندے نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، احتجاجاً ایوان سے باہر نکل گیا۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ اس نازک مرحلے پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا امن عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور جاری سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
سفارتی کشیدگی اور دو ریاستی حل کا بحران
امریکی حکومت کا اصرار ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام صرف اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں ہی ممکن ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس کی طرح عالمی سطح پر بھی معاشی و سیاسی پالیسیوں پر بحث جاری ہے، جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی ملاقات میں بھی علاقائی استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فرانس نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے اب فلسطین کو تسلیم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کے جارحانہ اقدامات کے باعث اس حل کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری اور غزہ کی بگڑتی صورتحال
اجلاس کے دوران سلامتی کونسل کے متعدد دیگر ارکان نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور مسئلے کے پائیدار سیاسی حل کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ یاد رہے کہ کویتی وزیر خارجہ آج دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر اہم بات چیت متوقع ہے۔ فرانس کے اس فیصلے کو دو ریاستی حل کے حامی کئی ممالک نے سراہا ہے، جبکہ اسرائیل اور امریکا نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنا انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرے گا اور مستقبل کے امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ یہ سفارتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ کے خاتمے اور اسرائیل۔فلسطین تنازع کے مستقل حل کے لیے عالمی برادری کی سفارتی کوششیں انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔
