فرانس، جرمنی اور برطانیہ بین الاقوامی طلبہ کی پہلی ترجیح بن گئے
پیرس (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
تعلیمی رجحانات میں تبدیلی کی اہم وجوہات
رپورٹ کے مطابق طلبہ اب تعلیم کے لیے ایسے ممالک کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں معیاری تعلیم، کم اخراجات، بہتر امیگریشن پالیسیاں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے زیادہ مواقع دستیاب ہوں۔ اس تناظر میں میڈیا انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کیلئے نئی پالیسی لائیں گے، عطاء اللہ تارڑ کے بیان کے برعکس، عالمی تعلیمی میدان میں یورپ اپنی پالیسیوں کو مزید لچکدار بنا رہا ہے۔
فرانس اور جرمنی کی تعلیمی پالیسیوں میں وسعت
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس نے حالیہ برسوں میں غیر ملکی طلبہ کو راغب کرنے کے لیے انگریزی زبان میں پڑھائے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں اضافہ، اسکالرشپس اور عالمی جامعات کے ساتھ شراکت داری جیسے اقدامات کیے ہیں، جس کے باعث ملک میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ جرمنی بھی عالمی طلبہ کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری جامعات میں کم یا نہ ہونے کے برابر ٹیوشن فیس، اعلیٰ تعلیمی معیار، جدید تحقیقی سہولیات اور انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں میں عالمی شہرت ہے۔
برطانیہ میں گریجویٹ روٹ ویزا کا اثر
برطانیہ بدستور دنیا کی نمایاں تعلیمی منزلوں میں شامل ہے۔ برطانوی جامعات میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ گریجویٹ روٹ ویزا کے ذریعے فارغ التحصیل طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ میں قیام اور ملازمت تلاش کرنے کی سہولت بھی اس رجحان کو تقویت دے رہی ہے۔ اس ضمن میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا قونصلر سروسز کیلئے شام کی شفٹ کا اعلان بھی تارکین وطن کے لیے ایک اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور مسابقت
ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ اب صرف تعلیمی معیار کو نہیں بلکہ تعلیم کے بعد ملازمت کے امکانات، مستقل رہائش کے مواقع، ویزا پالیسی، زندگی گزارنے کے اخراجات اور سرمایہ کاری کے بہتر امکانات کو بھی اپنی ترجیح بنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومتیں اپنی معاشی پالیسیوں میں بہتری لا رہی ہیں جیسا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس میں بھی معاشی استحکام پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے اسکالرشپس، آسان ویزا نظام اور ہنر مند گریجویٹس کو اپنے ہاں روکنے کی پالیسیوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، جس کے باعث عالمی تعلیمی میدان میں یورپ کا کردار مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
