امریکی کانگریس ارکان کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی ریاست مونٹانا سے ایوانِ نمائندگان کے رکن رائن کیتھ زنکے اور ریاست واشنگٹن سے ایوانِ نمائندگان کے رکن مائیکل جیمز نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سے ملاقات کی۔
ملاقات کے اہم نکات اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اس اہم ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، پاکستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ اور خوشحالی کے لیے تعاون کے نئے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دور میں وزیر خزانہ کی صدارت میں ایکسیس ٹو فنانس پلان کا اجلاس بھی ملکی معاشی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
اقتصادی استحکام اور علاقائی روابط پر زور
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی وسیع اقتصادی استعداد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار علاقائی استحکام کا انحصار معاشی ترقی، تجارت کے فروغ اور علاقائی روابط کے استحکام پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کاروبار دوست ماحول کے فروغ، سرمایہ کاری میں آسانی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے جامع ساختی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اوورسیز پاکستانی نوجوانوں سے خصوصی گفتگو بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
امریکی وفد کا پاکستان کے کردار کا اعتراف
امریکی ارکانِ کانگریس نے علاقائی استحکام اور اقتصادی مضبوطی کے لیے پاکستان کے اہم کردار کو سراہا۔ وفد کے پیشہ ورانہ تجربے اور بصیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں جانب سے دوطرفہ اقتصادی تعاون، نجی شعبے کے درمیان شراکت داری اور پاک امریکا تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ اس دوران یہ عزم دہرایا گیا کہ ادارہ جاتی سطح پر مضبوط تعلقات خطے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے، جس طرح ایرانی وفد کا کامسیٹس یونیورسٹی کا دورہ، تعلیمی و سائنسی تعاون کا عزم دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دیتا ہے۔
امریکی وفد نے پرتپاک میزبانی پر پاکستانی عسکری قیادت کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
