لمز پہلی بار ایشیا اسٹڈیز کی سب سے بڑی کانفرنس کی میزبانی کرے گا
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) رواں سال 25 سے 27 ستمبر تک دنیا کی سب سے بڑی ایشیا اسٹڈیز بین الاقوامی کانفرنس AAS-in-Asia 2026 کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس عالمی کانفرنس کا انعقاد ملک میں ہو رہا ہے، جسے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی علمی تعاون کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
Centering Asia: Refiguring Connections, Recharting Futures کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں 37 سے زائد ممالک سے ایک ہزار سے زیادہ محققین، ماہرین تعلیم اور اسکالرز شرکت کریں گے۔ شرکاء میں دنیا کی معروف جامعات، جن میں ہارورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، کیمبرج یونیورسٹی، ییل یونیورسٹی، پیکنگ یونیورسٹی، سنگھوا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹوکیو، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور اور نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سمیت دیگر ممتاز اداروں کے اساتذہ اور محققین شامل ہوں گے۔
پاکستان علمی دنیا کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے
AAS-in-Asia اس سے قبل جنوبی کوریا، انڈونیشیا، نیپال، جاپان اور بھارت سمیت مختلف ایشیائی ممالک میں منعقد ہو چکی ہے، تاہم پاکستان میں اس کا انعقاد پہلی مرتبہ ہو رہا ہے، جس سے لاہور عالمی علمی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن جائے گا۔ لمز کے مشتاق احمد گرمانی اسکول آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز (MGSHSS) کے ڈین اور بلقیس داؤد چیئر ڈاکٹر علی خان نے کہا کہ اس کانفرنس کی میزبانی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی علمی برادری کو بہت کچھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے آنے والے محققین لاہور میں پاکستان کا ایک ایسا مثبت، متنوع اور فکری طور پر مضبوط چہرہ دیکھ سکیں گے جو عمومی تاثر سے مختلف ہے۔
کانفرنس کا مرکزی خطاب ڈاکٹر عادل نجم کریں گے، جو WWF International کے صدر اور ماحولیات، بین الاقوامی تعلقات، ترقیاتی امور اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ محقق ہیں۔ کانفرنس ڈائریکٹر اور لمز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فرخ خان نے کہا کہ یہ کانفرنس ایشیا کی سیاست، تاریخ، ثقافت، معیشت اور عالمی تعلقات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اس سے قبل ایرانی وفد کا کامسیٹس یونیورسٹی کا دورہ، تعلیمی و سائنسی تعاون کا عزم جیسے اقدامات سے پاکستان کی تعلیمی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
تحقیقی نشستیں اور پاکستانی اسکالرز کے لیے مواقع
کانفرنس کے پروگرام میں تاریخ، سیاسیات، سماجیات، ادب، معاشیات، فنون اور دیگر شعبوں سے متعلق سینکڑوں تحقیقی نشستیں شامل ہوں گی۔ پاکستانی محققین کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنی تحقیق عالمی ماہرین کے سامنے پیش کریں۔ ملک بھر، خصوصاً چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے محققین کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ریسرچرز سپورٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے، جیسا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اوورسیز پاکستانی نوجوانوں سے خصوصی گفتگو میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے۔
یہ کانفرنس لمز اور ایسوسی ایشن فار ایشین اسٹڈیز (Association for Asian Studies – AAS) کے درمیان طویل المدتی تعاون کا نتیجہ ہے۔ AAS کے کنسلٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسنا اُک نے کانفرنس کی منصوبہ بندی اور تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مقامی سطح پر انتظامات کی قیادت لمز کی سابق طالبہ اور سینئر پروجیکٹ منیجر تاجور اعوان کر رہی ہیں۔ تاجور اعوان نے کہا کہ منتظمین کی خواہش ہے کہ کانفرنس میں شریک ہونے والے عالمی محققین لاہور کی علمی و ثقافتی زندگی کو قریب سے دیکھیں، بالکل اسی طرح جیسے حکومت ملک میں مالیاتی نظام کی بہتری کے لیے وزیر خزانہ کی صدارت میں ایکسیس ٹو فنانس پلان کا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ AAS-in-Asia 2026 کے لیے رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔
