پاسکو کی بندش کیلئے ای سی سی نے 4.2 ارب پیکج منظور کر لیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومت کے سرکاری اداروں میں اصلاحات کے منصوبے کے تحت پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی بندش کے عمل میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ادارے کے ملازمین کے لیے 4.2 ارب روپے کے معاوضے اور واجبات پر مشتمل پیکج کی منظوری دے دی ہے۔
پیکج کی تفصیلات اور حکومتی حکمت عملی
اس ضمن میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ پیکج پاسکو کے اثاثوں اور گندم کے ذخائر کی منتقلی اور ادارے کی بندش کے عمل کی آزادانہ جانچ کے بعد نافذ کیا جائے گا۔ حکومت کا واضح ہدف ہے کہ پاسکو کو 2026 کے اختتام تک مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ جیسے کہ حکومت معاشی استحکام کیلئے اقدامات کر رہی ہے، اسی طرح یوفون اور ٹیلی نار انضمام: حکومت کی ای اینڈ برانڈنگ پر پابندی جیسے فیصلے بھی ریاستی اصلاحات کا تسلسل ہیں۔
منظور شدہ پیکج میں مستقل، کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے علیحدگی کی ادائیگیاں، ریٹائرمنٹ فوائد، رخصت کی نقد ادائیگی اور دیگر واجبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاسکو کے بینیوولنٹ فنڈ کے ذریعے بیواؤں اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکام نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ ادارے کی تنظیمِ نو وزیراعظم آفس کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے۔ پاسکو کی بندش کے بعد ملک کے اسٹریٹجک گندم ذخائر کی نگرانی کے لیے ویٹ اسٹاک مینجمنٹ کمپنی (WSMC) قائم کی جائے گی۔ یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں حکومت کی جانب سے مختلف سطحوں پر انتظامی اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس میں پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسے امور بھی شامل ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاستی اداروں میں اصلاحات، مالی بوجھ میں کمی، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور گندم کی خریداری و ذخیرہ اندوزی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں مزید پیش رفت کی توقع ہے، خاص طور پر جب نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی اہم ٹیلی فونک گفتگو جیسے قومی و بین الاقوامی معاملات پر بھی حکومت فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
