نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آسیان کے 33 ویں اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) کے 33 ویں وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم موقع پر نائب وزیراعظم نے آسیان اور اے آر ایف کی کامیاب صدارت مکمل کرنے پر فلپائن کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔
علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کا عزم
اپنے خطاب کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ دیرپا امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد اور پائیدار راستہ ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی طرح پاکستان عالمی سطح پر ثالثی اور امن کوششوں میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
اہم عالمی امور پر پاکستان کا موقف
وزارتی اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم نے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا دو ٹوک موقف دنیا کے سامنے رکھا۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل نہ نکل آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خطے کی ترقی کے لیے صحت اور معاشی استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان سے واضح ہوتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور علاقائی استحکام
اسحاق ڈار نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے کے امن اور استحکام کا ایک بنیادی ستون ہے اور اسے ہر صورت برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی 69 ارب روپے کے دیر موٹروے کی منظوری جیسے منصوبے علاقائی روابط کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے پانی کے وسائل اور معاہدوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔
