نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں 33 ویں آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے اہم ملاقات کی۔
دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کا جائزہ
دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے گزشتہ سال اپنے دورہ بنگلہ دیش کے بعد دوطرفہ تعلقات کو ملنے والی نئی رفتار کو سراہا اور اسے خوش آئند قرار دیا۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تحت سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور جیسے اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے جو علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
عوامی سطح پر روابط اور پروازوں کا آغاز
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے تبادلوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس بات کا خصوصی طور پر خیرمقدم کیا گیا کہ رواں سال دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کا آغاز ہوا ہے، جس سے باہمی رابطہ کاری میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف تجارت بلکہ سیاحت اور عوامی رابطوں کے لیے بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس طرح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ بن گیا ہے، اسی طرح خطے میں فضائی روابط کا قیام خطے کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الااقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور مستقبل میں دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں معاشی اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ سام سنگ پاکستان کو موبائل مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا مرکز بنائیں، جام کمال کے وژن کے تحت حکومتی سطح پر صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
