مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,781 PKR Bitcoin $80,792 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,781 PKR Bitcoin $80,792
قومی

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایک اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کا واحد درآمد کنندہ مقرر کر دیا ہے، جس کے بعد دیگر تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ڈیزل درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ ملکی معاشی استحکام اور توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے۔

درآمدی پلان اور اوگرا کی حکمت عملی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مالی سال 2026-27 کے درآمدی پلان کے مطابق، پی ایس او کو ڈیزل کی درآمد کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیزل کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا، درآمدی نظم و نسق کو بہتر بنانا اور مقامی ریفائنریوں کی پیداوار کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال میں لانا ہے۔ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اور اس نئی پالیسی کے بعد اب دیگر کمپنیوں کی بجائے صرف پی ایس او ہی درآمدات کی نگرانی کرے گی۔

مقامی ریفائنریوں اور سپلائی چین پر اثرات

رپورٹ کے مطابق ملک میں ڈیزل کی زیادہ تر طلب اب مقامی ریفائنریوں کے ذریعے پوری کی جائے گی، جبکہ باقی ماندہ ضرورت صرف پی ایس او درآمدات کے ذریعے پوری کرے گی۔ حکومت کا یہ اقدام درآمدی اخراجات کو بہتر انداز میں منظم کرنے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانے کی ایک مربوط کوشش ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں حکومت نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں، جیسا کہ وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری کی چینی سرمایہ کاروں کو بحری شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ماہرین کی رائے اور مارکیٹ کا ردعمل

ماہرین اس اقدام کو مثبت قرار دے رہے ہیں، تاہم بعض صنعتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایک ہی کمپنی کو درآمد کا مکمل اختیار دینے سے مارکیٹ میں مسابقت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور اوگرا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی طلب، رسد اور مقامی پیداوار کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ معاشی استحکام برقرار رہے، جیسا کہ حال ہی میں پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں