امریکہ کا بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں سخت تبدیلی کا اعلان
واشنگٹن ڈی سی (نمائندہ خصوصی)۔ بین الاقوامی تعلیم کے شعبے میں ایک بڑی اور انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے، امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے غیر ملکی طلبہ، ایکسچینج وزیٹرز، اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کے لیے دہائیوں پرانے "ڈیوریشن آف اسٹیٹس” (Duration of Status) کے قانون کو باقاعدہ طور پر ختم کرنے کے قواعد و ضوابط فائنل کر لیے ہیں۔ 17 جولائی 2026 کو باضابطہ طور پر شائع ہونے والی اس حتمی پالیسی کے تحت پرانے اوپن اینڈڈ (غیر معینہ مدت) کے قانون کو ختم کر کے قیام کی ایک سخت اور متعین مدت مقرر کی جا رہی ہے۔ یہ نئے ضوابط 15 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، جس کے بعد F-1، J-1 اور I کیٹیگری کے ویزہ ہولڈرز کے لیے قانونی قیام کے اصول مکمل طور پر تبدیل ہو جائیں گے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی طلبہ کے داخلے سے متعلق گزشتہ پچاس سال سے رائج پالیسی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
نیا نظام اور ویزا توسیع کا پیچیدہ عمل
سابقہ نظام کے تحت، بین الاقوامی طلبہ کو اس وقت تک امریکہ میں غیر معینہ مدت کے لیے قانونی طور پر رہنے کی اجازت تھی جب تک وہ کل وقتی (فل ٹائم) تعلیم جاری رکھتے اور اپنی یونیورسٹی کی گائیڈ لائنز پر عمل کرتے تھے۔ تاہم، نئے ضوابط اس لچک کو ختم کرتے ہوئے ڈگری پروگرامز کے لیے داخلے اور قیام کی حد کو تعلیمی پروگرام کی اصل مدت یا زیادہ سے زیادہ چار سال (جو بھی کم ہو) تک محدود کر دیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی پروگرام چار سال سے زیادہ کا ہے—جیسے کہ پی ایچ ڈی، میڈیکل اسٹوڈنٹس یا دوہری ڈگری حاصل کرنے والے افراد—تو اب انہیں اپنے قیام میں توسیع (Extension of Stay) کے لیے براہ راست امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) میں درخواست دینا ہوگی۔ اس عمل کے لیے فارم I-539 جمع کروانا، 420 سے 470 ڈالر تک کی فیس ادا کرنا، اور وفاقی بائیومیٹرکس و پس منظر کی جانچ (Background Check) کے مراحل سے گزرنا لازمی ہوگا۔
تعلیمی نقل و حرکت اور گریجویشن کے بعد سخت شرائط
اس نئے قانون میں طلبہ کی تعلیمی نقل و حرکت اور گریجویشن کے بعد کے عبوری دور پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک چھوڑنے، دوسری یونیورسٹی منتقل ہونے، یا آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ (OPT) شروع کرنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت (Grace Period) کو 60 دنوں سے گھٹا کر صرف 30 دن کر دیا گیا ہے۔ انگریزی زبان کے تربیتی پروگراموں میں داخلہ لینے والوں کے لیے اب زندگی بھر میں زیادہ سے زیادہ 24 ماہ کی حد مقرر کر دی گئی ہے، جس میں تعلیمی تعطیلات بھی شامل ہوں گی۔ مزید برآں، انڈرگریجویٹ طلبہ کو اب اپنے پہلے تعلیمی سال کے دوران اپنی یونیورسٹی تبدیل کرنے یا میجر (اصلی مضمون) تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام بین الاقوامی طلبہ پر اس بات کی بھی پابندی ہوگی کہ وہ ملک چھوڑے بغیر یا انتہائی پیچیدہ اور کڑی شرائط کے تحت ملنے والے استثنیٰ کے بغیر، مساوی سطح پر دوسری ڈگری حاصل کرنے (مثال کے طور پر ایک ماسٹرز کے بعد اسی سطح پر دوسرا ماسٹرز کرنے) جیسے فیصلے نہیں کر سکیں گے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے طلبہ یورپی پارلیمنٹ کی فضائی مسافروں کے حقوق میں تاریخی اصلاحات کی منظوری کے طرز پر اپنے حقوق کا مطالعہ کر سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت پر پاکستان اور تاجکستان کا مشن جیسے عالمی اقدامات بھی اس نوعیت کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
اثرات اور حکومتی موقف
اس پالیسی تبدیلی کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر گریجویٹ ریسرچ پروگرامز اور مقبول ترین ‘آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ’ (OPT) پروگرام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ چونکہ امریکہ میں پی ایچ ڈی کا اوسط تعلیمی دورانیہ پانچ سے آٹھ سال پر محیط ہوتا ہے، اس لیے آنے والے تقریباً ہر پی ایچ ڈی طالب علم کو ویزہ میں توسیع کے اس کٹھن وفاقی عمل سے گزرنا پڑے گا۔ اگر یہ توسیع مسترد ہو جاتی ہے، تو طالب علم کو بغیر کسی اضافی مہلت کے فوری طور پر ملک چھوڑنا ہوگا۔ بین الاقوامی تعلیمی اداروں اور تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تشویش اور تنقید کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافی دفتری کارروائیاں اور غیر یقینی صورتحال امریکی یونیورسٹیوں کی عالمی ساکھ اور برتری کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو پالیسی سازی میں توازن ناگزیر ہوتا ہے، اسی طرح امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور مسلسل تعلیمی داخلوں کی آڑ میں امیگریشن قوانین کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ یونیورسٹیوں کا عملہ رواں سال ستمبر میں قانون کے اطلاق سے قبل اس بڑے انتظامی انقلاب سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
