پاکستان نے 17 ارب ڈالر کا سرکاری قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان نے فعال قرضہ انتظامی حکمتِ عملی کے تحت 17 ارب امریکی ڈالر (4.722 کھرب روپے) سے زائد کا سرکاری قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا، جو ملکی تاریخ میں قبل از وقت قرض ادائیگی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
قرضوں کی ادائیگی: حکومتی حکمت عملی
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق حکومت نے حالیہ 279 ارب روپے مالیت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ (PIB) بائی بیک کے بعد مجموعی طور پر 4.722 کھرب روپے کا قرض میعاد سے پہلے ریٹائر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے گئے جن میں پی ٹی سی ایل نے ندیم خان کو مستقل چیف ایگزیکٹو مقرر کر دیا جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران حکومت نے متعدد مراحل میں قرض قبل از وقت واپس کیا، جس کا مقصد قرضوں کی ساخت کو بہتر بنانا، ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات کم کرنا اور قرضوں پر سودی اخراجات میں کمی لانا ہے۔ حکومت کی جانب سے مالی نظم و ضبط کا یہ عمل ملک کے مالیاتی اداروں کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار
خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت نے 2.9 کھرب روپے کا قرض قبل از وقت ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔ اس رقم میں 51 فیصد قرض اسٹیٹ بینک آف پاکستان جبکہ 49 فیصد مارکیٹ سے حاصل کیے گئے حکومتی قرض پر مشتمل تھا۔ حکومت کے ان اقدامات پر تجزیہ کاروں کی رائے علیمہ خان کی احتجاجی کال، تحریک انصاف کی حمایت اور اندرونی آراء جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
قرضوں کی میعاد اور جی ڈی پی تناسب
انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری قرضوں کی اوسط میعاد 2.7 سال سے بڑھ کر 3.8 سال سے زائد ہو گئی ہے، جبکہ مجموعی سرکاری قرض کا جی ڈی پی میں تناسب بھی 75 فیصد سے کم ہو کر 68.5 فیصد تک آ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے۔ جس طرح بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی آزاد کشمیر صورتحال پر مشاورت کے بعد سیاسی و معاشی بہتری کے اشارے ملتے ہیں، اسی طرح حکومتی معاشی ٹیم بھی طویل مدتی استحکام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق حکومت کی یہ حکمت عملی معیشت کو زیادہ مستحکم، مالیاتی نظام کو مضبوط اور طویل المدتی مالیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
