پاکستان اور سعودی عرب کا خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے مملکت سعودی عرب کی فیملی افیئرز کونسل کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر میمونہ الخلیل سے ملاقات کی، جس میں خواتین کے حقوق، خاندانی نظام کے تحفظ اور او آئی سی کے تحت باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سماجی اور اقتصادی اصلاحات پر تبادلہ خیال

اس ملاقات کے دوران سعودی عرب میں جاری سماجی و اقتصادی اصلاحات، خواتین کی سماجی و معاشی زندگی میں بڑھتی ہوئی شمولیت اور دونوں ممالک کے درمیان بہترین تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خواتین کو تعلیم، وراثت، کاروبار اور معاشرتی زندگی میں جو بلند مقام عطا کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کی سیرت طیبہ آج کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ اور مشعلِ راہ ہیں۔
پاکستان میں خواتین کی ترقی کا سفر

وفاقی وزیر نے پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کی ترقی کے حوالے سے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ترجیحی اقدامات کر رہا ہے اور یہ مسلم دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے ایک خاتون کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز کیا، جبکہ آج پاکستانی خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
او آئی سی کے پلیٹ فارم پر تعاون
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے او آئی سی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے، خاندانی نظام کے استحکام اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی سطح پر مسلم دنیا میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
