یورپی یونین کا میٹا کو فیس بک، انسٹاگرام تبدیل کرنے کا الٹی میٹم
برسلز (نمائندہ خصوصی)۔ یورپی یونین نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے فیس بک اور انسٹاگرام کے ایسے فیچرز فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں ریگولیٹرز نے صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں، کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا سبب قرار دیا ہے۔ یورپی کمیشن نے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت جاری ابتدائی نتائج میں کہا ہے کہ اگر میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز کے بنیادی ڈیزائن میں مطلوبہ تبدیلیاں نہ کیں تو کمپنی کو اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اربوں ڈالر بنتا ہے۔ جیسا کہ پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کے لیے مستقل سیکرٹری تعینات کر دیا ہے، اسی طرح یورپی ریگولیٹرز بھی ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کی روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
کن فیچرز پر اعتراض؟
یورپی کمیشن کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام میں شامل متعدد فیچرز صارفین کو طویل وقت تک ایپ استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جن میں انفینٹ اسکرول (Infinite Scroll)، آٹو پلے (Autoplay)، بار بار پش نوٹیفکیشنز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پرسنلائزڈ ریکمینڈیشن سسٹم شامل ہیں۔ ریگولیٹرز کا مؤقف ہے کہ یہ فیچرز صارفین کو مسلسل مواد دیکھنے پر آمادہ رکھتے ہیں اور خاص طور پر کم عمر افراد کی ذہنی صحت، نیند اور روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
بچوں کی حفاظت میں ناکامی کا الزام
یورپی کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ میٹا 13 سال سے کم عمر بچوں کو پلیٹ فارم استعمال کرنے سے مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہی، جبکہ کمپنی کے پاس کم عمر صارفین کے استعمال سے متعلق معلومات موجود ہونے کے باوجود مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال بچوں میں ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، جسمانی ساخت کے بارے میں منفی احساسات اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات وفاقی حکومت کا ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا اعلان جیسے ویژن کا ہی ایک حصہ ہیں۔
میٹا نے الزامات مسترد کر دیے
دوسری جانب میٹا نے یورپی یونین کے الزامات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں نوعمر صارفین کی حفاظت کے لیے 50 سے زائد حفاظتی فیچرز متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کے مطابق "ٹین اکاؤنٹس” (Teen Accounts) کے ذریعے والدین بچوں کے اسکرین ٹائم، رات کے وقت ایپ کے استعمال اور دیگر سرگرمیوں پر بہتر نگرانی کر سکتے ہیں۔ تاہم یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ حفاظتی ٹولز عام صارفین کے لیے پیچیدہ ہیں اور بہت سے بچے ان پابندیوں کو آسانی سے نظرانداز کر لیتے ہیں۔
مزید سخت قوانین کا امکان
یورپی یونین اس وقت بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق مزید سخت قوانین پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ فرانس، اٹلی، اسپین سمیت کئی یورپی ممالک کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر اضافی پابندیاں متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کا قومی آئی ٹی تربیتی پروگرام کا اعلان بھی نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں مثبت اور تعمیری استعمال کی جانب راغب کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر حتمی تحقیقات میں میٹا کو قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تو کمپنی کو فیس بک اور انسٹاگرام میں انفینٹ اسکرول اور آٹو پلے جیسے فیچرز میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی، بصورت دیگر اسے اربوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
