عدالتی نظام کی ساکھ ججز کی دیانتداری سے وابستہ ہے: چیف جسٹس
اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی ساکھ، مؤثریت اور عوامی اعتماد کا دارومدار جوڈیشل افسران کی قابلیت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ وابستگی پر ہے، لہٰذا ججز کو اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی میں اعلیٰ اخلاقی اور پیشہ ورانہ معیارات کو برقرار رکھنا چاہیے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان سے جاری اعلامیے کے مطابق خیبر پختونخوا کے سول ججز پر مشتمل ایک وفد، جو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پروفیشنل ایکسچینج پروگرام کے تحت سروس کے دوران ترقی سے قبل تربیت حاصل کر رہا ہے، نے اپنے مطالعاتی دورے کے دوران چیف جسٹس پاکستان سے سپریم کورٹ میں ملاقات کی۔
ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، ڈائریکٹر خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی، سپریم کورٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل (ریفارمز) اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری بھی شریک تھے۔
تبادلہ خیال کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی ذمہ داریوں کی بدلتی ہوئی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمیوں کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام عدالتی صلاحیتوں میں اضافے، فیصلوں میں یکسانیت پیدا کرنے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے صرف قانونی مہارت کافی نہیں بلکہ دیانتداری، غیر جانبداری اور موزوں عدالتی مزاج بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جوڈیشل افسران کو اپنے آئینی فرائض سے پوری طرح آگاہ رہتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انصاف قانون کے مطابق، منصفانہ اور بروقت فراہم کیا جائے۔
انہوں نے تربیت حاصل کرنے والے ججز کو تلقین کی کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، عدالتی آزادی اور اخلاقی طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھیں کیونکہ نظامِ انصاف کی ساکھ اور مؤثریت کا انحصار بڑی حد تک جوڈیشل افسران کی قابلیت، دیانتداری اور عزم پر ہوتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے مختلف امور پر چیف جسٹس سے تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں ادارہ جاتی خیرسگالی کے اظہار کے طور پر یادگاری تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
