پشتونخوا میپ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوام دشمن اور غیر آئینی قرار دے کر
کوئٹہ/اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پشتونخوا میپ) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوام دشمن، غیر آئینی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بجٹ محض الفاظ اور اعداد و شمار کا ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کے بجائے قومی وسائل پر مزید بوجھ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
وفاقی خسارے پر شدید تحفظات
پشتونخوا میپ کے مطابق، وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جبکہ اس کے مقابلے میں متوقع آمدنی صرف 11 ہزار 751 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ پارٹی نے اس حساب سے وفاقی خسارے کو 7 ہزار ارب روپے سے زائد قرار دیا ہے، جو کہ حکومت کے معاشی نظم و ضبط کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بیان میں بجٹ خسارے، قرضوں کے سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کو قومی آمدنی پر سب سے بڑا دباؤ قرار دیا گیا ہے۔
قرضوں اور دفاعی اخراجات کی ترجیحات
پارٹی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے اور دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ ان ترجیحات کے باعث حکومتی امور چلانے، ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور عوامی سہولتوں کی فراہمی کے لیے مالی گنجائش انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔ پشتونخوا میپ کا مؤقف ہے کہ ایسے بجٹ سے عام شہری کو فوری معاشی ریلیف ملنے کی توقع نہ ہونے کے برابر ہے۔
صوبائی خودمختاری کی خلاف ورزی اور قومی اثاثوں کا تحفظ
پشتونخوا میپ نے وفاقی سطح پر صوبائی شعبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے پر بھی شدید اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لائیو اسٹاک جیسے شعبے صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس لیے وفاق کی جانب سے ان شعبوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ پارٹی نے ایس آئی ایف سی (SIFC)، نجکاری پالیسی اور قومی اثاثوں کے استعمال سے متعلق حکومتی سمت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قومی اداروں اور عوامی اثاثوں کی کم قیمت پر فروخت عوامی مفاد کے خلاف ہو سکتی ہے، لہٰذا تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ پشتونخوا میپ کا یہ ردعمل بجٹ پر جاری بحث کو محض معاشی ہی نہیں بلکہ آئینی، وفاقی اور سیاسی بحث میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں صوبائی خودمختاری، قومی اثاثوں کا تحفظ اور مالی شفافیت مرکزی موضوعات بن کر ابھرے ہیں۔
سرکاری معلومات کے لیے وزارت غذائی تحفظ و تحقیق سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
