مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,247 PKR Bitcoin $80,563 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,247 PKR Bitcoin $80,563
قومی

وفاقی بجٹ 2026-27: موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی، ڈیمز اور فوڈ سکیورٹی کے خطرات کا مکمل جائزہ

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 16 منٹ
وفاقی بجٹ 2026-27 موسمیاتی تبدیلی سیلاب پانی ڈیمز اور فوڈ سکیورٹی
وفاقی بجٹ 2026-27: موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی، ڈیمز اور فوڈ سکیورٹی کا خصوصی گرافک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نمائندہ خصوصی

اسلام آباد، دوست نیوز خصوصی رپورٹ: وفاقی بجٹ 2026-27 میں موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی کے ذخائر، ڈیمز، hydropower، ماحولیات اور فوڈ سکیورٹی کو پاکستان کے مستقبل کے سب سے بڑے غیر روایتی خطرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلنے، پانی کی کمی، زرعی پیداوار پر دباؤ اور شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں climate resilience، green growth، biodiversity، environmental monitoring، پانی کے منصوبوں اور disaster risk reduction کو صرف ماحولیات نہیں بلکہ قومی معیشت، خوراک، زراعت اور انسانی تحفظ کا مسئلہ سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان عالمی سطح پر greenhouse gases کے اخراج میں بڑا حصہ دار نہیں، مگر موسمیاتی تباہیوں کا شکار ممالک میں نمایاں طور پر شامل ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ایک بڑی موسمیاتی آفت صرف دیہی علاقوں، فصلوں یا گھروں کو نہیں بلکہ پورے قومی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم، خوراک، سڑکوں، پلوں، بجلی، پانی اور روزگار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس پس منظر میں بجٹ 2026-27 کا climate اور water agenda انتہائی اہم ہے۔

موسمیاتی تبدیلی: پاکستان کا خاموش معاشی بحران

موسمیاتی تبدیلی کو عموماً ماحولیات کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ براہِ راست معاشی بحران ہے۔ شدید گرمی مزدور کی productivity کم کرتی ہے، فصلوں کی پیداوار متاثر کرتی ہے، بجلی کی demand بڑھاتی ہے، پانی کی ضرورت بڑھاتی ہے اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ غیر معمولی بارشیں اور سیلاب سڑکیں، پل، گھر، اسکول، اسپتال، فصلیں اور مویشی تباہ کر دیتے ہیں۔ خشک سالی زراعت، پینے کے پانی اور دیہی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے شمالی علاقوں میں flash floods کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ تمام اثرات آخرکار بجٹ پر آتے ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو حکومت کو reconstruction، relief، compensation، health emergency، سڑکوں کی بحالی، irrigation channels، schools اور hospitals پر اضافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو رقم ترقی، تعلیم یا صحت پر خرچ ہونی تھی، وہ disaster recovery میں چلی جاتی ہے۔ اس لیے climate adaptation پر خرچ دراصل future losses سے بچاؤ کی سرمایہ کاری ہے۔

بجٹ میں climate resilience: ضرورت زیادہ، وسائل محدود

دستیاب رپورٹنگ کے مطابق بجٹ 2026-27 کے لیے Climate Change Ministry کے تحت climate resilience، afforestation، green growth، biodiversity conservation اور environmental monitoring جیسے منصوبوں کے لیے کم از کم آٹھ proposed projects کا ذکر کیا گیا، جن کی مجموعی allocation تقریباً 2.78 ارب روپے بتائی گئی۔ یہ سمت درست ہے، مگر پاکستان کے climate risk کے مقابلے میں یہ رقم نہایت محدود دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کو climate adaptation کے لیے flood protection، early warning systems، urban drainage، heat action plans، drought management، climate-smart agriculture، water storage، reforestation، coastal protection، glacier monitoring، disaster-resilient infrastructure اور community preparedness جیسے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر climate budget صرف چند چھوٹے منصوبوں تک محدود رہا تو مستقبل کی تباہیوں کا مالی نقصان اس allocation سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

سیلاب: ہر چند سال بعد ترقی کو پیچھے دھکیلنے والا خطرہ

پاکستان میں سیلاب صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ قومی ترقی کو بار بار پیچھے دھکیلنے والا خطرہ ہے۔ دریائی سیلاب، flash floods، urban flooding، نالوں کی بندش، کمزور drainage، غیر قانونی تعمیرات، کمزور embankments اور ناقص land use planning مل کر بڑے نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔ 2022 کے سیلاب نے لاکھوں گھروں، فصلوں، مویشیوں، اسکولوں، صحت مراکز اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا۔ ایسے واقعات کے بعد reconstruction میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

بجٹ میں سیلاب سے بچاؤ کو صرف relief کے زاویے سے نہیں بلکہ prevention کے زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ اگر ندی نالوں کی صفائی، flood zoning، embankments، drainage، reservoirs، early warning systems اور local disaster teams پر بروقت خرچ کیا جائے تو بعد میں اربوں روپے کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو reactive disaster response کے بجائے proactive disaster risk reduction کی طرف جانا ہو گا۔

پانی کا بحران: زراعت، صنعت اور شہروں کی مشترکہ تشویش

پاکستان کا پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، زراعت پانی پر انحصار کرتی ہے، صنعت کو پانی چاہیے، شہروں میں پینے کے پانی کی demand بڑھ رہی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے pattern کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔ اگر پانی ذخیرہ، conservation، recycling، irrigation efficiency اور groundwater management پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں پانی خوراک اور شہری زندگی کا بڑا بحران بن سکتا ہے۔

پاکستان میں پانی کا بڑا حصہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے، مگر irrigation efficiency کم ہے۔ نہری پانی کا ضیاع، flood irrigation، غیر منظم ٹیوب ویل، groundwater depletion اور پانی کی قیمت کا غیر حقیقی نظام پیداوار کو غیر پائیدار بنا رہے ہیں۔ بجٹ میں پانی کے منصوبوں کو ترقیاتی اخراجات نہیں بلکہ national survival investment سمجھنا چاہیے۔

ڈیمز اور hydropower: کم allocation پر بڑی بحث

بجٹ 2026-27 کے پس منظر میں پانی اور hydropower منصوبوں کے لیے funding پر بھی بحث ہوئی۔ Dawn کی reporting کے مطابق water اور hydropower projects کے لیے تقریباً 179 ارب روپے کی ممکنہ allocation پر بات ہوئی، جبکہ officials کے مطابق بڑے dam اور power projects کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔

Diamer-Bhasha، Dasu، Mohmand، Kurram Tangi اور دیگر بڑے منصوبے صرف بجلی کے منصوبے نہیں بلکہ water storage، flood moderation، irrigation support اور long-term energy security سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مگر بڑے ڈیمز کی construction cost بہت زیادہ، timeline طویل، land acquisition مشکل، resettlement حساس اور financing پیچیدہ ہوتی ہے۔ اگر funding کم یا irregular ہو تو منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، لاگت بڑھتی ہے اور benefits دیر سے ملتے ہیں۔

Hydropower: سستی بجلی اور پانی دونوں کا راستہ

پاکستان کے energy mix میں hydropower ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ imported fuel پر انحصار کم کرتا ہے، بجلی کی طویل مدتی لاگت کم کر سکتا ہے، اور پانی storage کے ساتھ جڑ کر زراعت کو بھی فائدہ دیتا ہے۔ مگر hydropower projects کو مسلسل financing، engineering capacity، environmental safeguards اور مقامی آبادی کے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر بجٹ میں hydropower کو priority دی جائے تو پاکستان کو مہنگی imported fuel-based بجلی سے کچھ حد تک نجات مل سکتی ہے۔ لیکن اگر پانی اور hydropower منصوبے funding delays کا شکار رہے تو پاکستان کو ایک طرف پانی کی کمی، دوسری طرف مہنگی بجلی کا سامنا رہے گا۔

ماحولیات اور green growth: صرف درخت لگانا کافی نہیں

Green growth کا مطلب صرف درخت لگانا نہیں۔ یہ ایک مکمل economic model ہے جس میں توانائی efficiency، صاف صنعت، waste management، صاف transport، urban planning، پانی کی بچت، renewable energy، biodiversity، climate-resilient agriculture اور pollution control شامل ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی، سموگ، کچرے کے ڈھیر، نالوں کی بندش، industrial waste اور کمزور urban planning صحت اور معیشت دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

اگر بجٹ میں green growth کے نام پر صرف symbolic projects رکھے گئے تو اثر محدود رہے گا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ development planning میں climate screening لازمی ہو۔ ہر سڑک، پل، ہاؤسنگ اسکیم، صنعتی زون، اسکول، اسپتال اور drainage project کو climate-resilient design کے ساتھ بنایا جائے۔ ورنہ ہر بار بارش، سیلاب یا heatwave کے بعد نیا نقصان ہو گا۔

Afforestation اور biodiversity: قدرتی دفاعی نظام

جنگلات، mangroves، wetlands، rangelands اور biodiversity پاکستان کے قدرتی دفاعی نظام ہیں۔ درخت flood runoff کم کرتے ہیں، مٹی کو محفوظ رکھتے ہیں، گرمی کم کرتے ہیں، carbon absorb کرتے ہیں اور مقامی ecology کو سہارا دیتے ہیں۔ coastal areas میں mangroves سمندری طوفان، erosion اور coastal flooding کے خلاف قدرتی shield بن سکتے ہیں۔

بجٹ میں afforestation اور biodiversity conservation کی سمت مثبت ہے، مگر اس کے لیے monitoring، survival rate، community ownership، water availability اور illegal cutting پر control ضروری ہے۔ صرف پودے لگانے کی تصاویر کافی نہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ پانچ سال بعد وہ پودے درخت بنیں۔

فوڈ سکیورٹی: موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا عوامی اثر

موسمیاتی تبدیلی کا عام آدمی پر سب سے واضح اثر خوراک کی قیمتوں کی صورت میں آتا ہے۔ شدید گرمی گندم، چاول، کپاس، سبزیوں اور پھلوں کو متاثر کرتی ہے۔ غیر معمولی بارشیں فصلیں خراب کرتی ہیں۔ سیلاب کھڑی فصل، مویشی، بیج، کھاد اور زمین کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خشک سالی پیداوار کم کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منڈی میں رسد کم ہوتی ہے، قیمتیں بڑھتی ہیں اور غریب گھرانے کی خوراک متاثر ہوتی ہے۔

اس لیے climate policy اور food security کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بجٹ 2026-27 میں زراعت کے لیے storage financing اور climate resilience کے اقدامات اگر آپس میں جوڑے جائیں تو کسان کو بھی فائدہ ہو گا اور صارف کو بھی۔ پاکستان کو climate-smart seeds، water-efficient irrigation، crop insurance، weather advisory، cold storage، crop zoning اور disaster compensation کا مربوط نظام بنانا ہو گا۔

شہری سیلاب اور drainage: بڑے شہروں کا بڑھتا بحران

کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں urban flooding ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ یہ صرف بارش کا مسئلہ نہیں بلکہ ناقص drainage، encroachments، solid waste، نالوں کی بندش، غیر قانونی تعمیرات اور کمزور local government planning کا نتیجہ ہے۔ ہر مون سون میں شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری واضح ہو جاتی ہے۔

بجٹ میں climate resilience کا مطلب یہ بھی ہونا چاہیے کہ urban drainage، stormwater systems، solid waste management، flood maps، emergency response، pumps، نالوں کی desilting اور master planning پر خرچ ہو۔ اگر شہروں کو climate-resilient نہ بنایا گیا تو ہر بارش کاروبار، ٹریفک، صحت، گھروں اور بجلی کے نظام کو متاثر کرے گی۔

Heatwaves: خاموش مگر جان لیوا خطرہ

پاکستان میں heatwaves کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ شدید گرمی بزرگوں، بچوں، مزدوروں، رکشہ ڈرائیورز، construction workers، کسانوں اور outdoor workers کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے۔ Heatwave کا اثر بجلی demand، پانی کی demand، صحت مراکز، productivity اور شہری زندگی پر پڑتا ہے۔ بجٹ میں heat action plans، cooling centers، urban tree cover، پانی points، public awareness اور worker protection کو بھی climate adaptation کا حصہ بنانا چاہیے۔

گرمی کا مسئلہ خاص طور پر شہروں میں زیادہ شدید ہو جاتا ہے جہاں concrete، traffic، کم درخت اور آلودگی urban heat island effect پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے urban planning کو climate policy سے جوڑنا ناگزیر ہے۔

Disaster management: امداد کے بجائے تیاری

پاکستان کا disaster management نظام اکثر emergency کے وقت متحرک ہوتا ہے، مگر اصل ضرورت پہلے سے تیاری کی ہے۔ Early warning systems، community training، evacuation routes، local rescue teams، flood shelters، stockpiles، district disaster plans، insurance اور digital alerts پر سرمایہ کاری کی جائے تو انسانی جانیں اور مالی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔

بجٹ میں اگر disaster preparedness کو مضبوط نہ کیا گیا تو ہر آفت کے بعد emergency relief کی ضرورت بڑھتی رہے گی۔ پاکستان کو relief culture سے preparedness culture کی طرف جانا ہو گا۔

صوبوں کا کردار: climate action زمین پر کیسے آئے گا؟

Climate change، پانی، زراعت، urban planning، local drainage، forests، health اور disaster management میں صوبوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وفاق policy، financing، international climate funds اور national coordination دے سکتا ہے، مگر عملدرآمد صوبوں، اضلاع، بلدیاتی اداروں اور مقامی communities کے ذریعے ہی ہو گا۔

اگر وفاق اور صوبوں میں coordination کمزور رہی تو climate projects کے نتائج محدود رہیں گے۔ بجٹ میں cooperative federalism کو climate action سے جوڑنا چاہیے۔ ہر صوبے کی climate priority مختلف ہے: سندھ کو سیلاب اور coastal risk، بلوچستان کو خشک سالی اور پانی، پنجاب کو سموگ اور زراعت، خیبر پختونخوا کو گلیشیئرز، flash floods اور forests، جبکہ گلگت بلتستان کو glacial lake outburst floods کا سامنا ہے۔

Climate finance: عالمی وعدے اور پاکستان کی ضرورت

پاکستان کو climate adaptation کے لیے داخلی بجٹ سے کہیں زیادہ عالمی climate finance کی بھی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر climate funds، concessional finance، green bonds، loss and damage mechanisms، carbon markets اور development partners کے ذریعے وسائل حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے Pakistan کو bankable climate projects، transparent monitoring، credible data اور strong institutions چاہیے۔

اگر climate finance صرف conferences اور pledges تک محدود رہی تو فائدہ کم ہو گا۔ پاکستان کو ایسے منصوبے تیار کرنے ہوں گے جن میں واضح outcomes، measurable benefits، community impact اور financial discipline ہو۔

حتمی تجزیہ: موسمیاتی تبدیلی بجٹ کا اضافی باب نہیں، مرکزی خطرہ ہے

وفاقی بجٹ 2026-27 کا climate، water اور environment زاویہ پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ Climate resilience، green growth، biodiversity، environmental monitoring، پانی کے ذخائر، ڈیمز، hydropower اور disaster preparedness کو اب optional نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ قومی معیشت، خوراک، توانائی، صحت، شہری زندگی اور انسانی تحفظ کی بنیاد ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے climate risks بہت بڑے ہیں، مگر بجٹ کی مالی گنجائش محدود ہے۔ اگر climate action کو چند ارب روپے کے چھوٹے منصوبوں تک محدود رکھا گیا تو مستقبل میں سیلاب، خشک سالی، heatwaves اور پانی کے بحران کا مالی نقصان کہیں زیادہ ہو گا۔ اس لیے حکومت کو climate spending کو development planning کے ہر شعبے میں شامل کرنا ہو گا۔

پاکستان کو فوری طور پر تین سمتوں میں کام کرنا ہو گا: پہلا، پانی ذخیرہ، hydropower اور irrigation efficiency؛ دوسرا، flood protection، urban drainage اور disaster preparedness؛ تیسرا، climate-smart agriculture، afforestation، green growth اور heatwave response۔

اگر بجٹ 2026-27 ان سمتوں میں حقیقی عملدرآمد کی بنیاد بنتا ہے تو یہ پاکستان کو مستقبل کی تباہیوں سے بچانے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر climate action صرف اعلانات، محدود allocations اور کمزور implementation تک رہا تو آنے والے برسوں میں ہر سیلاب، ہر خشک سالی اور ہر heatwave قومی ترقی کو پیچھے دھکیلتی رہے گی۔

پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں، موجودہ حقیقت ہے۔ بجٹ کا اصل امتحان یہی ہے کہ ریاست اس حقیقت کو کتنی سنجیدگی سے اپنے مالی، ترقیاتی اور انتظامی فیصلوں میں شامل کرتی ہے۔

وفاقی بجٹ، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے منصوبوں سے متعلق سرکاری مالیاتی دستاویزات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ مزید قومی، زراعت اور فیچر رپورٹس قومی، زراعت اور فیچر رپورٹ صفحات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
مصنف

Dost News

Dost News Desk publishes verified Urdu news, newsroom updates, press releases, features and public-interest reports for Dost News.

🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں