مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,566 PKR Bitcoin $80,877 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,566 PKR Bitcoin $80,877
قومی

وفاقی بجٹ 2026-27: زراعت کے لیے اسٹوریج فنانسنگ، کسانوں کو محفوظ پیداوار پر قرض اور فوڈ سکیورٹی پر نیا فوکس

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 3 منٹ
agriculture
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نمائندہ خصوصی

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 میں زراعت کے شعبے کو فوڈ سکیورٹی، محفوظ اسٹوریج، زرعی قرض اور فصلوں کے تحفظ کے زاویے سے اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچانے، کسانوں کی مالی رسائی بہتر بنانے اور مارکیٹ میں خوراک کی مستحکم فراہمی کے لیے اسٹوریج فنانسنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

بجٹ کے زرعی حصے میں Agri Storage Financing Facility کو ایک اہم پالیسی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سہولت کا مقصد کسانوں، زرعی کاروباروں اور متعلقہ اداروں کو ایسی مالی معاونت فراہم کرنا ہے جس سے فصلوں، اناج، پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کو بہتر انداز میں ذخیرہ کیا جا سکے۔

زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان میں فصل کٹائی کے بعد نقصان، اسٹوریج کی کمی، کولڈ چین کی کمزور سہولتوں اور مارکیٹ تک بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث کسانوں کو قیمت اور آمدن دونوں سطحوں پر دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ بجٹ میں اسٹوریج فنانسنگ کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ اس سے کسان اپنی پیداوار فوری طور پر کم قیمت پر فروخت کرنے کے بجائے محفوظ رکھ کر بہتر مارکیٹ وقت کا انتظار کر سکتے ہیں۔

حکومتی ترجیحات میں زرعی قرض کی رسائی کو آسان بنانا بھی شامل ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے کسان جدید اسٹوریج، کولڈ رومز، ویئر ہاؤسز، پیکنگ، نقل و حمل اور فصلوں کے تحفظ کے لیے سرمایہ حاصل کر سکیں۔ اس پالیسی سے زرعی سپلائی چین میں سرمایہ کاری بڑھنے اور دیہی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

فوڈ سکیورٹی کے تناظر میں یہ اقدام خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، گرمی کی شدت اور فصلوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کے زرعی نظام کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ بہتر اسٹوریج اور مالی معاونت نہ صرف کسانوں کی آمدن کو مستحکم کر سکتی ہے بلکہ صارفین کے لیے خوراک کی فراہمی اور قیمتوں میں توازن کے لیے بھی مددگار ہو سکتی ہے۔

بجٹ 2026-27 میں زراعت کو صرف پیداوار بڑھانے کے بجائے پیداوار کو محفوظ بنانے، ضیاع کم کرنے اور مارکیٹ تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے وسیع فریم ورک میں دیکھا گیا ہے۔ اگر اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد ہوا تو کسانوں، زرعی کاروباروں، فوڈ پروسیسنگ سیکٹر اور قومی غذائی تحفظ کے لیے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

وفاقی بجٹ اور مالیاتی دستاویزات کی سرکاری تفصیلات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ مزید زرعی اور کاروباری خبریں زراعت، بزنس اور قومی صفحات پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
مصنف

Dost News

Dost News Desk publishes verified Urdu news, newsroom updates, press releases, features and public-interest reports for Dost News.

🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں