مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 23°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,566 PKR Bitcoin $80,877 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,566 PKR Bitcoin $80,877
تازہ ترین

بحران سے استحکام تک: پاکستان کی معاشی تبدیلی کا جائزہ

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 13 منٹ
وفاقی بجٹ 2026-27، اوورسیز پاکستانی، ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر اور بیرونی سرمایہ کاری
وفاقی بجٹ 2026-27، اوورسیز پاکستانی، ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر اور بیرونی سرمایہ کاری
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر ۔ روحا خان

پاکستان کی معاشی تاریخ میں چند برس ایسے ضرور گزرے ہیں جب ملک کو دیوالیہ پن اور شدید ترین مالیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مشکل ترین فیصلوں اور پائیدار معاشی حکمتِ عملی کے باعث آج ملک ایک نئی اور روشن راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ نئے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ کی آمد آمد ہے، اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر جب ہم گزشتہ برس کے معاشی اشاریوں پر نظر دوڑاتے ہیں، تو معیشت میں استحکام اور ترقی کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار میں معاشی اصلاحات کا جو طویل اور کٹھن سفر شروع کیا گیا تھا، اس کے ثمرات اب واضح طور پر معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں نظر آ رہے ہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.70 فیصد کی حقیقی شرحِ نمو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت اب جمود سے نکل کر تیز رفتاری سے بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں یہ شرح منفی 0.2 فیصد تک گر چکی تھی، جس کے بعد گزشتہ برس یہ 3.2 فیصد پر آئی اور اب موجودہ مالی سال میں اس نے مزید بہتری کا سفر طے کیا ہے۔ یہ اضافہ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں یکساں بہتری کا نتیجہ ہے۔ اس وقت پاکستان کی مجموعی معیشت کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 452.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد کا ایک شاندار اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی فی کس آمدنی بھی 9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,901 امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس سے عام شہری کی قوتِ خرید اور معیارِ زندگی میں بحالی کا عمل شروع ہوا ہے۔ معیشت کی اس بحالی میں زراعت کا کردار ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کی مانند رہا ہے۔ ماضی کے شدید سیلابوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصانات کے باوجود، کسانوں کی ہمت اور حکومت کی زرعی دوست پالیسیوں کی بدولت زرعی شعبے نے 2.89 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ دیہی معیشت کو سہارا دینے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے، جو جولائی سے مارچ کے دوران 2,162 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ قرضے کسانوں کو جدید بیج، کھادیں اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف دیہی علاقوں میں خوشحالی آ رہی ہے بلکہ ملک میں غذائی تحفظ بھی یقینی ہو رہا ہے۔ صنعتی شعبے میں بھی ایک شاندار اور واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ ماضی میں گراوٹ کا شکار رہنے والا یہ شعبہ اب 3.51 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ خاص طور پر بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی کارکردگی گزشتہ چار سالوں میں سب سے بہترین رہی ہے، جس میں 6.1 فیصد کی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

ملک کے 22 بڑے صنعتی شعبوں میں سے 16 شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی ہے، جن میں آٹوموبائل، خوراک، تمباکو، پٹرولیم مصنوعات اور برقی آلات کی تیاری سرفہرست ہیں۔ صنعتی پہیے کے اس طرح چلنے سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خدمات کا شعبہ، جو ملکی معیشت کا ایک بڑا لنگر گاہ مانا جاتا ہے، اس سال 4.09 فیصد کی شرح سے ترقی کر کے چار سال کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط اور حکومتی خزانے کی صورتحال دیکھی جائے تو یہاں بھی اصلاحات کے دور رس نتائج سامنے آئے ہیں۔ جولائی سے مارچ کے عرصے میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے محض 0.7 فیصد تک محدود رہا ہے، جو کہ گزشتہ دہائیوں کی بہترین مالیاتی کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔ سب سے بڑھ کر، ملک کا پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک اپنے وسائل کے اندر رہ کر کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اس سخت مالیاتی نظم و ضبط کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بھی مسلسل کم ہو رہا ہے اور قرض اور جی ڈی پی کا تناسب جو ماضی میں 75 فیصد سے تجاوز کر گیا تھا، اب کم ہو کر 68.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے معاشی استحکام کو مزید تقویت ملی ہے۔ عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور اسرائیل ایران کشیدگی کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں توانائى کی قیمتیں بڑھیں اور سپلائی چین متاثر ہوئی، وہیں پاکستان نے ان بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ انتہائی پامردی سے کیا۔ ان تمام عالمی چیلنجز کے باوجود ملک میں اوسط افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح کو 6.7 فیصد پر برقرار رکھا گیا، جو کہ ماضی کی 29 فیصد کی ہولناک شرح کے مقابلے میں ایک بہت بڑی ریلیف ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کی مسلسل نگرانی اور گوداموں میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات نے قیمتوں کو ایک حد کے اندر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیرونی محاذ پر پاکستان کی معاشی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی سے اپریل کے دوران سمٹ کر صرف 252 ملین ڈالر رہ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن قائم ہو رہا ہے۔ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر مئی 2026 کے اختتام تک 17.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ملک کا امپورٹ کور بڑھ کر 2.75 ماہ کا ہو گیا ہے، یعنی اب پاکستان ڈھائی مہینے سے زائد کی ضروری درآمدات کی مالی اعانت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بحال ہوئی ہے۔ اس پوری کامیابی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ کی طرح مثالی رہا ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر جولائی سے مئی کے دوران 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس میں اپریل کے مہینے میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترین رقم شامل ہے۔ توقع ہے کہ یہ ترسیلاتِ زر رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے اب تک 12.7 ارب ڈالر پاکستان آ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں بیٹھے پاکستانی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ملک کے مستقبل پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آئی ٹی اور ٹیک سیکٹر پاکستان کی معیشت کا نیا انجن بن کر ابھرا ہے۔ جولائی سے اپریل کے دوران آئی ٹی کی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس میں سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد کا شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس شعبے میں ہمارے نوجوان فری لانسرز نے کمال کر دکھایا ہے اور ان کی کمائی 959 ملین ڈالر کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے ہدف کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ فری لانسرز کی آمدنی میں 49 فیصد کا یہ تاریخی اضافہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو سچ ثابت کر رہا ہے۔ ملکی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی تاریخی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں 45 فیصد کا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار سرمایہ کاری کرنے والوں میں نوجوانوں اور پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ (IPOs) ہوئی ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھتے ہوئے 39,000 سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں، جن میں سے 99.9 فیصد رجسٹریشن ڈیجیٹل طریقے سے ہوئی ہے، جس سے ملک میں کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے جہاں معاشی ترقی اور صنعتی پہیے کو تیز کیا، وہاں معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے بجٹ میں 21 فیصد کا اضافہ کر کے اسے 722.5 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے، تاکہ مہنگائی کے اثرات سے غریب خاندانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ عوامی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کئی خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کم آمدنی والے لوگوں کو 5 فیصد کی آسان شرحِ سود پر ایک کروڑ روپے تک کے طویل المدتی قرضے دیے جا رہے ہیں۔ زرعی شعبے کے لیے بغیر کسی ضمانت کے 10 لاکھ روپے تک کا ‘زرخیز’ قرضہ، ماحول دوست سواریوں کے لیے ‘پیو’ (PAVE) پروگرام، اور نوجوانوں کے لیے مختلف اسکل بانڈز اور اسکالرشپ پروگرام شامل ہیں، جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو معاشی عمل کا حصہ بنا رہے ہیں۔ حکومت نے صرف عارضی ریلیف دینے کے بجائے معیشت کے ڈھانچے کو درست کرنے کے لیے انتہائی کٹھن اور جرات مندانہ ساختی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ٹیکس کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ریٹیلرز اسکیم اور فیس لیس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے خاتمے، ٹیرف میں کمی اور ملٹی بائر مارکیٹ کے قیام پر تیزی سے کام جاری ہے۔

ریاستی اداروں (SOEs) کے خسارے کو کم کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کیا گیا ہے، جس کے تحت پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک جیسے اداروں کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اگلا ہدف بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) ہیں۔ سرکاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے کئی غیر ضروری محکموں اور وزارتوں کو بند یا ضم کیا جا رہا ہے، اور پنشن کے نظام کو بھی ایک پائیدار کنٹریبیوٹری ماڈل پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کٹھن فیصلوں کا دور اب گزر رہا ہے اور استحکام کا سفر پائیدار بنیادوں پر شروع ہو چکا ہے۔ آنے والے بجٹ سے عوام اور کاروباری طبقے کو یہ امید وابستہ ہے کہ یہ معاشی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرے گا اور ان اصلاحات کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں گے۔ پاکستان کا مستقبل اب ایک مستحکم، ڈیجیٹل اور خود انحصار معیشت کے روپ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سرکاری معلومات کے لیے وزارت آئی ٹی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نماز جنازہ، وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت
  • بحران سے استحکام تک: پاکستان کی معاشی تبدیلی کا جائزہ
  • معاشی استحکام کے بعد اب ترقی، روزگار اور عوامی معیار زندگی پر توجہ دینا ہوگی، وزیراعظم
  • مئی 2026 میں ترسیلاتِ زر 4.25 ارب ڈالر، ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ
  • تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
    🏛️ GOVERNMENT PROJECT

    PHA Foundation Flats

    Sector I-16, Islamabad

    ✅ Officially Approved
    ✅ Easy Installments
    ✅ No Hidden Charges
    Starting from
    PKR 60 Lac
    View Details →
    SPONSORED — Dost Marketing

    متعلقہ خبریں

    تبصرہ کریں