مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,148 PKR Bitcoin $80,549 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 421,148 PKR Bitcoin $80,549
تازہ ترین

مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب: خطے، پالیسی اور معیشت پر سخت سوالات

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 9 منٹ
مولانا فضل الرحمٰن
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟

خطاب کے اہم نکات

یہ خطاب دراصل پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسیوں، سکیورٹی حکمتِ عملی، علاقائی تجارت، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ریاستی پالیسی سازوں پر ایک سخت سیاسی تنقید ہے۔ قائد جمعیت علمائے اسلام (ف) Maulana Fazlur Rehman نے پشین میں خطاب کرتے ہوئے بنیادی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر ریاستی پالیسیاں درست سمت میں جا رہی ہیں تو پھر ملک کو درپیش مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ کیوں رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل نکات میں سامنے آتا ہے:

  • قومی سلامتی کے معاملات پر سوال اٹھانا غداری نہیں بلکہ شہری حق ہے۔
  • بھارت کے خلاف پاکستان کے دفاعی ردعمل کی حمایت کی گئی۔
  • ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی کردار کی بھی تحسین کی گئی۔
  • سوال یہ اٹھایا گیا کہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسیاں بنانے والے کون ہیں اور ان کے نتائج کیا ہیں؟
  • بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور بند سرحدوں کو معاشی نقصان قرار دیا گیا۔
  • علاقائی تجارت کی محدود صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی۔
  • سی پیک اور چین کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کی سست روی پر تنقید کی گئی۔
  • دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کو حکمت عملی کی ناکامی قرار دیا گیا۔
  • خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں متعدد فوجی آپریشنز کے نتائج پر سوالات اٹھائے گئے۔
  • پاکستان کے "محصور ریاست” بننے کے خدشات کا اظہار کیا گیا۔

تجزیہ

کیا مولانا فضل الرحمٰن نے درست سوالات اٹھائے؟

سیاسی اختلافات سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے جن سوالات کو اٹھایا، وہ صرف اپوزیشن کے نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی، سفارتی اور سکیورٹی مستقبل سے جڑے سوالات ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں۔ مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال میں چین موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں خارجہ پالیسی اور سکیورٹی پالیسی کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔


علاقائی تجارت کا بحران

پاکستان کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر کے آس پاس ہیں جبکہ علاقائی تجارت دنیا کے کئی ممالک کی ترقی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔

بھارت کے ساتھ تجارت تقریباً معطل ہے۔

افغانستان کے ساتھ تجارت مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔

ایران کے ساتھ سرحدی تجارت صلاحیت سے بہت کم سطح پر ہے۔

چین کے ساتھ سی پیک کی رفتار پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر پاکستان اپنے چاروں اطراف معاشی مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا تو اس کے طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے؟


دہشت گردی کے خلاف جنگ: کامیابی یا نامکمل کامیابی؟

پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار اور شہری جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

ملک نے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔

فوجی آپریشنز نے کئی علاقوں میں دہشت گردوں کے منظم ڈھانچوں کو توڑا۔

تاہم سوال یہ بھی موجود ہے کہ اگر دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو صرف مولانا فضل الرحمٰن ہی نہیں بلکہ سکیورٹی ماہرین، پارلیمانی کمیٹیاں اور عوامی حلقے بھی وقتاً فوقتاً اٹھاتے رہے ہیں۔

دوسری طرف ریاستی مؤقف یہ ہے کہ دہشت گردی ایک مسلسل ارتقا پذیر خطرہ ہے جس کے پیچھے علاقائی اور بین الاقوامی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے مکمل خاتمہ ایک طویل عمل ہے۔


کیا پاکستان واقعی محصور ہو رہا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن کا سب سے سخت جملہ یہ تھا کہ پاکستان "محصور مملکت” بنتا جا رہا ہے۔

یہ ایک سیاسی بیان ہے، لیکن اس کے پیچھے چند حقائق بھی زیر بحث آتے ہیں:

  • خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی۔
  • بھارت کے ساتھ مستقل تناؤ۔
  • افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات۔
  • ایران اور اسرائیل تنازعے کے اثرات۔
  • عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی۔

دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور متعدد عالمی فورمز پر اپنی سفارتی موجودگی مضبوط کی ہے، اس لیے "محصور ریاست” کی اصطلاح مبالغہ آمیز ہے۔


اصل مسئلہ کیا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کا مرکزی نکتہ دراصل جواب طلبی (Accountability of Policy) ہے۔

وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ملک کی سلامتی ضروری نہیں۔

وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:

  • پالیسیوں کے نتائج کیا نکلے؟
  • معاشی فائدہ کتنا حاصل ہوا؟
  • دہشت گردی کیوں برقرار ہے؟
  • علاقائی تجارت کیوں محدود ہے؟
  • عوامی زندگی میں بہتری کیوں نہیں آرہی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت یا ادارے کے پاس نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام کو دینا ہوگا۔


دوست نیوز کا نتیجہ

پشین میں مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب دراصل پاکستان کی موجودہ سکیورٹی، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر ایک بھرپور سیاسی چارج شیٹ کے طور پر سامنے آیا۔ خطاب میں جہاں ریاستی پالیسی سازوں پر سخت تنقید کی گئی، وہیں علاقائی تجارت، دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور معاشی تنہائی جیسے موضوعات پر اہم سوالات بھی اٹھائے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو بیک وقت دو بڑے چیلنج درپیش ہیں: ایک طرف قومی سلامتی کا تحفظ اور دوسری طرف معاشی ترقی کی ضرورت۔ کامیاب ریاستیں وہی ہوتی ہیں جو سکیورٹی اور معیشت کے درمیان توازن پیدا کر سکیں۔ آنے والے برسوں میں پاکستان کی کامیابی کا انحصار بھی اسی توازن پر ہوگا کہ وہ اپنی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی روابط کو کس حد تک فروغ دیتا ہے۔

www.dostmarketing.pk

www.dostnews.com

www.naqshconsultatns.com

مزید پڑھیں

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں