مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,950 PKR Bitcoin $80,021 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,950 PKR Bitcoin $80,021
تازہ ترین

بجٹ 2026 اور پاکستان کا معاشی معمّا

📅 ✍️ ⏱ 18 منٹ
budget 2026
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ٹیکس وصولی کے ریکارڈ، اشرافیہ کی مراعات اور عام آدمی کی سسکتی زندگی

شاہراہِ دستور کا منظر اور ایک غریب کا چولہا

اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر واقع ‘ایوانِ وزیرِ اعظم’ اور ‘پارلیمنٹ ہاؤس’ کے چمکتے ہوئے ہالز میں جب بجٹ 2026-27 کے چمکدار کتابچے اور دستاویزات تیار کی جا رہی ہوتی ہیں، تو وہاں کی فضا میں اعداد و شمار کی ایک جادوئی دنیا بسا دی جاتی ہے۔ "اتنے ہزار ارب روپے کا ٹیکس جمع ہو گیا”، "ہم نے آئی ایم ایف کا ہدف پورا کر دیا”، "ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے”—یہ وہ جملے ہیں جو سرکاری پریس ریلیز کا حصہ بنتے ہیں۔

لیکن اسی اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور راولپنڈی کے کسی بازار یا پاکستان کے کسی بھی چھوٹے شہر کی تنگ گلی میں کھڑے ایک عام پاکستانی کی دنیا بالکل مختلف ہے۔ وہاں اعداد و شمار کا یہ جادو نہیں چلتا۔ وہاں کا سچ یہ ہے کہ جب ایک باپ رات کو گھر لوٹتا ہے، تو اس کی جیب میں اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کے لیے دودھ، روٹی اور اسکول کی فیس بیک وقت ادا کر سکے۔

آج ہم دوست نیوز کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی معاشی تاریخ کے پچھلے دس سالوں کا پوسٹ مارٹم کریں گے، ٹیکس کے نظام کی خامیاں ڈھونڈیں گے، اور یہ معلوم کریں گے کہ آخر وہ کون سی پالیسیاں ہیں جنہوں نے اس خوبصورت ملک کے محنتی لوگوں کی زندگی کو ایک مسلسل عذاب بنا دیا ہے۔

موجودہ معاشی صورتحال (The Hard Reality of 2026)

سال 2026 میں پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں بظاہر میکرو اکانومی (Macroeconomy) کے اشارے مثبت دکھائی دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مائیکرو اکانومی (Microeconomy) یعنی عوامی سطح پر تباہی مچی ہوئی ہے۔

1۔ ٹیکس وصولی کا تاریخی عروج

وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اس سال تقریباً 13,000 ارب روپے کا جو ترمیمی ہدف مقرر کیا تھا، وہ اس کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں اتنا بڑا ٹیکس کا حجم اکٹھا کیا گیا ہے۔ حکومت فخر سے بتاتی ہے کہ گزشتہ 11 مہینوں میں ہدف کا 99.8 فیصد حاصل کر لیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیمیں اس کارکردگی پر پیٹھ تھپتھپا رہی ہیں۔

2۔ لیکن عوام کا بوجھ کتنا بڑھا؟

اب سکّے کا دوسرا رخ دیکھیے۔ اس ریکارڈ ٹیکس کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ براہِ راست ان لوگوں کی جیبوں سے نکالا گیا ہے جو پہلے ہی ایمانداری سے ٹیکس دے رہے تھے یا جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

  • بجلی کے بل: پچھلے دو سالوں میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جو اضافہ ہوا، اس نے عام گھریلو صارفین کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک متوسط طبقے کا خاندان جس کا ماہانہ کرایہ 20,000 روپے ہے، اس کا بجلی کا بل 35,000 روپے آ رہا ہے۔
  • پٹرولیم مصنوعات: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے کے باوجود پاکستان میں پٹرول اور ڈیزیل پر لگی "پٹرولیم لیوی” اور دیگر ڈیوٹیز نے ٹرانسپورٹیشن کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ ہر سبزی، پھل اور اناج کی قیمت دگنی ہو چکی ہے۔
  • تنخواہ دار طبقہ: تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک فیکٹری کے مزدور یا اسکول کے ماسٹر پر اتنا ٹیکس لگا دیا گیا ہے جتنا ایک بڑے شوگر مل کے مالک یا پراپرٹی ڈیلر پر بھی نہیں ہے۔

گزشتہ 10 سال کے بجٹس کا تقابل (2016 تا 2026)

کسی بھی ملک کی معاشی بیماری کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی کا مطالعہ ضروری ہے۔ آئیے پچھلے دس سالوں کے بجٹس کا ایک منصفانہ اور حقائق پر مبنی جائزہ لیتے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم اس دلدل میں گرے کیسے:


وفاقی بجٹ (سال)ٹیکس وصولی کا ہدف (ارب روپے)بیرونی و اندرونی قرضہ (ٹریلین پی کے آر)معاشی رجحان اور بڑی تبدیلیاں
2016-173,621~22سی پیک (CPEC) کا عروج تھا۔ ڈالر 105 روپے پر مصنوعی طور پر روکا گیا تھا۔ معاشی شرحِ نمو (GDP) 5.5% تھی، لیکن اندرونی طور پر درآمدات کا بم تیار ہو رہا تھا۔
2017-183,842~25سیاسی عدم استحکام کا آغاز۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا کیونکہ ہم نے اپنی چادر سے زیادہ پٹرول اور عیاشی کا سامان امپورٹ کیا۔
2018-194,394~31نئی حکومت آئی۔ ڈالر کا غبارہ پھٹا اور وہ 140 روپے سے اوپر چلا گیا۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کی وجہ سے معیشت کو شدید جھٹکا لگا اور مہنگائی کی پہلی بڑی لہر آئی۔
2019-203,997~36یہ سال کرونا (COVID-19) کی نذر ہو گیا۔ ریونیو کے ہدف کو کم کرنا پڑا، معیشت منجمد ہو گئی، لیکن حکومت نے تعمیراتی شعبے (Construction) کو ایمنسٹی دی، جس سے رئیل اسٹیٹ میں کالا دھن تو چھپ گیا لیکن عام آدمی کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
2020-214,732~40کرونا کے بعد عارضی بحالی۔ سود کی شرح کم کی گئی، جس سے عارضی طور پر بڑی صنعتوں نے تو خوب منافع کمایا لیکن سٹرکچرل اصلاحات (Stuctural Reforms) کو پھر نظرانداز کر دیا گیا۔
2021-226,125~48معیشت گرم (Overheat) ہو گئی۔ درآمدات 80 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ ڈالر کی اڑان تیز ہوئی، سیاسی بحران پیدا ہوا اور ملک ڈیفالٹ (Diwalia) ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا۔
2022-237,169~58شدید ترین معاشی بحران۔ سیلاب کی تباہ کاریاں اور آئی ایم ایف پروگرام کی معطلی۔ مہنگائی 38 فیصد کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ ایل سیز (LCs) بند ہونے سے انڈسٹری بیٹھ گئی۔
2023-249,252~67آئی ایم ایف کا نیا شارٹ ٹرم پروگرام ملا۔ روپے کی قدر 280-300 کے درمیان آئی۔ ٹیکس بڑھانے کے لیے پٹرول اور بجلی کو ہتھیار بنایا گیا۔ تنخواہ دار طبقے کا بھرکس نکال دیا گیا۔
2024-2511,500~75آئی ایم ایف کے ایک اور طویل مدتی پروگرام (EFF) کی شرائط کا نفاذ۔ نجکاری کے عمل میں تیزی لائی گئی (مثال کے طور پر پی آئی اے کی نجکاری کے فائنل مراحل)۔ لیکن نان ڈیولپمنٹ اخراجات کم نہ ہو سکے۔
بجٹ 2026~13,000~82+موجودہ بجٹ۔ ٹیکس کا ہدف حاصل، مگر معاشی شرح نمو صرف 2 سے 3 فیصد کے درمیان۔ انڈسٹری بند ہو رہی ہے اور ملک کے پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

اس تقابل سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

اس جدول پر نظر ڈالیں تو ایک خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں پاکستان کا ٹیکس ہدف 3,600 ارب سے بڑھ کر 13,000 ارب روپے ہو گیا (تقریباً 260 فیصد کا اضافہ)۔ لیکن اسی دوران ملکی قرضہ 22 ٹریلین سے بڑھ کر 82 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا (تقریباً 270 فیصد کا اضافہ)۔

قانونِ معیشت یہ کہتا ہے: اگر آپ کا ٹیکس کلیکشن بڑھ رہا ہو تو آپ کا قرضہ کم ہونا چاہیے یا کم از کم رک جانا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں دونوں چیزیں بیک وقت اوپر جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایسے گھومتے ہوئے پہیے (Vicious Cycle) میں پھنس چکے ہیں جہاں ہم نیا قرضہ صرف پرانے قرضے کا سود دینے کے لیے لیتے ہیں۔

اصل بیماری کیا ہے؟ (The Structural Pathology)

پاکستان کی معیشت کی حالت اس مریض جیسی ہے جس کا جگر خراب ہو لیکن ڈاکٹر اس کے سر درد کا علاج کر رہا ہو۔ ہماری اصل بیماریاں تین ہیں:

1۔ "ایلیٹ کیپچر” (Elite Capture) یا اشرافیہ کی معیشت

اقوامِ متحدہ (UNDP) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ (بڑے جاگیردار، بیوروکریسی، بااثر سیاستدان، اور کارپوریٹ مافیا) ہر سال بجٹ سے اربوں ڈالر کی مراعات (Subsidies اور Perks) لے جاتی ہے۔

  • سرکاری افسران کو ملنے والا مفت پٹرول، مفت بجلی، اور بھاری مراعات اسی غریب کے ٹیکس سے دی جاتی ہیں۔
  • بجٹ 2026 میں بھی، جہاں غریب کے آٹے پر ٹیکس کی بات ہو رہی ہے، وہاں سرکاری افسران کی نئی گاڑیوں اور سیکریٹریٹ کے اخراجات میں کوئی بڑی کٹوتی دیکھنے کو نہیں ملی۔

2۔ سود کی ادائیگیوں کا اژدہا (Debt Servicing)

پاکستان کے کل بجٹ کا سب سے بڑا حصہ—بعض اوقات 60 فیصد سے زیادہ—صرف ایک لائن آئٹم میں چلا جاتا ہے: "قرضوں پر سود کی ادائیگی”۔ ہم جو 13,000 ارب روپے جمع کرتے ہیں، اس کا بڑا حصہ اسٹیٹ بینک اور بیرونی بینکوں کو سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔ حکومت چلانے، دفاع اور ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کو دوبارہ سے نیا قرضہ لینا پڑتا ہے۔ یہ معیشت نہیں، خودکشی کا راستہ ہے۔

3۔ غیر دستاویزی معیشت (Black & Informal Economy)

پاکستان کی کل معیشت کا تقریباً 40 سے 50 فیصد حصہ ایسا ہے جو کسی کھاتے میں نہیں آتا۔ ہمارے ملک کے بڑے بڑے ہول سیلر، کپڑے کے تاجر، رئیل اسٹیٹ کے ٹائیکونز اور شوگر مافیا اربوں روپے کماتے ہیں لیکن جب ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو وہ صفر ہو جاتے ہیں۔ چونکہ حکومت ان طاقتور لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے، اس لیے وہ سارا نزلہ انڈسٹری اور تنخواہ دار طبقے پر گرا دیتی ہے۔

وہ پالیسیاں جنہوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی

وہ کون سے مخصوص فیصلے ہیں جن کی وجہ سے آج پاکستان کا عام شہری پیس رہا ہے؟ آئیے ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

1۔ آئی پی پیز (IPPs) کا معاہدہ اور بجلی کے بلوں کا ظلم

پاکستان نے 1990 اور 2015 کے دوران نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جنہیں معاشی زبان میں "Capacity Charges” کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر ہم ان سے بجلی نہ بھی خریدیں، تب بھی ہمیں انہیں ڈالرز میں ادائیگی کرنی ہوگی۔

  • آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے، لیکن کارخانے بند ہونے کی وجہ سے ہم بجلی استعمال نہیں کر رہے۔
  • ان آئی پی پیز کو گھر بیٹھے اربوں روپے دیے جا رہے ہیں اور یہ پیسہ حکومت اپنی جیب سے نہیں، بلکہ غریب کے بجلی کے بل میں ‘ڈیویلپمنٹ چارجز’، ‘فیول ایڈجسٹمنٹ’ اور ‘سرچارجز’ کی شکل میں وصول کر رہی ہے۔

2۔ بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کا سہارا

براہِ راست ٹیکس (Direct Tax) وہ ہوتا ہے جو امیر کی آمدنی دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax) وہ ہوتا ہے جو ہر عام چیز پر لگا دیا جاتا ہے۔

  • پاکستان کے موجودہ بجٹ کے نظام میں، جب آپ ایک ماچس کی ڈبیا، موبائل کارڈ، گھی کا پیکٹ یا پٹرول خریدتے ہیں، تو آپ 18% سے لے کر 25% تک کا جنرل سیلز ٹیکس (GST) دیتے ہیں۔
  • اس کا مطلب ہے کہ 25,000 روپے کمانے والا مزدور اور 25 لاکھ روپے کمانے والا بزنس مین، دونوں ایک لیٹر پٹرول پر برابر ٹیکس دے رہے ہیں۔ یہ دنیا کا ناانصافی پر مبنی ترین ٹیکس نظام ہے۔

3۔ ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا قتل

جب بھی حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ آتا ہے کہ "اپنا خسارہ کم کرو”، تو حکومت اپنے عیاشی کے اخراجات کم کرنے کے بجائے سب سے پہلا کٹ "پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام” (PSDP) پر لگاتی ہے۔

  • ترقیاتی بجٹ کم ہونے کا مطلب ہے کہ نئے ہسپتال نہیں بنیں گے، سرکاری اسکولوں کی حالت نہیں سدھرے گی، صاف پانی کے منصوبے بند ہو جائیں گے اور نئی سڑکیں نہیں بنیں گی۔
  • جب یہ سہولیات حکومت نہیں دے گی، تو غریب کو مجبوراً پرائیویٹ ہسپتالوں اور اسکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں اس کی رہی سہی جمع پونجی بھی لٹ جاتی ہے۔

نجکاری کا سفر — پی آئی اے کی مثال (A Ray of Hope or A Warning?)

یہاں ایک اہم اور مثبت معاشی پیش رفت کا ذکر ضروری ہے جس کا تعلق سرکاری اداروں کے گرتے ہوئے بوجھ سے ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) معیشت پر ایک ایسا بوجھ بنی ہوئی تھی جو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان کر رہی تھی۔

  • موجودہ صورتحال: طویلdelay اور معاشی اصلاحات کے دباؤ کے بعد، سال 2025 اور 2026 کے دوران پی آئی اے کی نجکاری (Privatization) کا عمل فائنل مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ اس کے واجب الادا قرضوں کو ایک علیحدہ ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر کے اس کے اکثریتی شیئرز اور انتظامی کنٹرول کو نجی شعبے کے حوالے ۔
  • سبق کیا ہے؟ پی آئی اے کی نجکاری یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر حکومت چاہے تو وہ معاشی بوجھ کم کر سکتی ہے۔ اسٹیل ملز، ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) اور دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے اب بھی اربوں روپے کا چونا لگا رہے ہیں۔ جب تک ان تمام سفید ہاتھیوں کو نجی شعبے کے حوالے نہیں کیا جائے گا، بجٹ کا خسارہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

کلیدی عوامل اور ذمہ دار عناصر (Key Role Factors)

پاکستان کو اس نہج پر پہنچانے میں کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کا ہاتھ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورا نظام ہے جس میں درج ذیل عوامل نے کلیدی کردار ادا کیا:

  1. سیاسی عدم استحکام (Political Instability): پچھلے 10 سالوں میں کوئی بھی حکومت اپنی مدت سکون سے پوری نہیں کر سکی۔ جب سیاستدانوں کو اپنی کرسی بچانے کی فکر ہو، تو وہ طویل مدتی معاشی پالیسیاں بنانے کے بجائے عارضی اور پاپولسٹ (Populist) فیصلے کرتے ہیں جن کا نقصان بعد میں ملک کو بھگتنا پڑتا ہے۔
  2. بیوروکریسی کا جمود (Bureaucratic Red Tape): پاکستان کا انتظامی نظام ستر کی دہائی کے قوانین پر چل رہا ہے۔ ایف بی آر کا پورا نظام ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکا کیونکہ اندرونی کرپشن اور کالی مچھلیاں نہیں چاہتیں کہ ٹیکس کا نظام شفاف ہو۔
  3. ٹیکنالوجی اور جدت سے دوری: ہم نے پچھلے دس سالوں میں اپنی آئی ٹی (IT) انڈسٹری، ای کامرس اور جدید زراعت پر توجہ ہی نہیں دی۔ جب تک ہم دنیا کو کچھ نیا بیچیں گے نہیں، ہمارے پاس ڈالرز کہاں سے آئیں گے؟

دلدل سے نکلنے کا راستہ

بحیثیت ایک معاشی ماہر، میرا ماننا ہے کہ پاکستان اب بھی اس بحران سے نکل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے روایتی بجٹ سازی کے طریقے کو مسمار کرنا ہوگا اور درج ذیل انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے:

1۔ "ٹیکس نیٹ” کا دائرہ کار تبدیل کریں

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس مزید بڑھانے کے بجائے حکومت کو فوری طور پر:

  • رئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس: فائلرز اور نان فائلرز کا ڈرامہ بند کیا جائے اور پراپرٹی کی ہر ٹرانزیکشن پر اصل قیمت کے مطابق ٹیکس لیا جائے۔ ایک فائلر بن کر کروڑوں روپے کا پلاٹ خریدنے والے کو چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔
  • زرعی آمدن پر ٹیکس: بڑے جاگیردار جو ایک ایک فصل سے کروڑوں روپے کماتے ہیں، ان کی آمدنی کو بھی عام شہری کی طرح ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

2۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں 50% کٹوتی

روزمرہ کی اشیاء جیسے آٹا، دال، چینی، گھی اور بچوں کے دودھ پر سے سیلز ٹیکس (GST) کو فوری طور پر ختم یا کم سے کم (5% تک) کیا جائے تاکہ غریب کی جیب کو فوری ریلیف ملے۔

3۔ سادگی مہم — صرف کاغذ پر نہیں، زمین پر

وزراء، بیوروکریٹس، ججز اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے والی تمام مفت بجلی، مفت پٹرول اور بڑے گھروں کی مراعات ختم کی جائیں۔ ان کے اخراجات کو ان کی تنخواہ تک محدود کیا جائے تاکہ انہیں بھی اندازہ ہو کہ پٹرول اور بجلی مہنگی ہونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے۔

4۔ آئی پی پیز (IPPs) کے معاہدوں کی ازسرِنو تشکیل

حکومت کو تمام نجی بجلی گھروں کے ساتھ بیٹھ کر "کپیسیٹی پیمنٹس” کے معاہدوں کو فوری طور پر ری سٹرکچر کرنا ہوگا۔ جب تک بجلی سستی نہیں ہوگی، پاکستان کی انڈسٹری نہیں چلے گی اور جب تک انڈسٹری نہیں چلے گی، ملک میں روزگار پیدا نہیں ہوگا۔

وقت کا آخری پیغام

بجٹ 2026-27 پاکستان کے لیے صرف ایک مالیاتی دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے 24 کروڑ عوام کے صبر کا آخری امتحان ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کا 13,000 ارب روپے کا ہدف حاصل کر لینا تب تک کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک اس پیسے سے کسی غریب کے بچے کو سستی تعلیم، ایک بیمار ماں کو مفت دوا اور ایک نوجوان کو باعزت روزگار نہ ملے۔

پاکستان کی اشرافیہ اور حکمرانوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ "عوام ہیں تو معیشت ہے، عوام ہیں تو بجٹ ہے”۔ اگر غریب کی کمر ہی ٹوٹ گئی، تو یہ ریکارڈ ٹیکس دینے کون آئے گا؟ وقت کم ہے اور فیصلے تلخ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں کوئی واقعی عوام کا درد سمجھ کر بجٹ بناتا ہے یا پھر ہمیشہ کی طرح "سب اچھا ہے” کی راگنی الاپ کر غریب کو مزید پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ دوست نیوز (dostnews.com) کے قارئین کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں