کلرکہار میں حادثہ 1122 کی بروقت کارواٸی
ممبر نیشنل پریس کلب اسلام آباد افتخار سیماب کے بھتیجے کا کلرکہار میں حادثہ 1122 کی بروقت کارواٸی ٹراما سینٹر نے اپنا ڈرامہ برقرار رکھتے ہوۓ پنڈی ریفر کرنے کی کوشش کی
ٹراما سینٹر کلرکہار میں مریض رل گے حکومت کے اربوں روپے کھوہ کھاتے میڈیا کے سامنے اہل علاقہ کی فریاد
کلرکہار(نماٸندہ دوست نیوز)سینیئر صحافی و افتخار سیماب ممبر نیشنل پریس کلب کے بھتیجے کو عید کے روز حادثہ پیش آیا حادثہ میانی اڈہ کے قریب پیش آیا 1122 نے بروقت کاروائی کرتے ہوۓ نوجوان شاہزیب اسرار کو ٹراما سینٹر منتقل کیا ٹراما سینٹر پر موجود ڈاکٹر نے اپنی روایات کے مطابق مریض کو پنڈی ریفر کرنے کو کہا جبکہ مریض کی حالت انتہاٸی خطرناک تھی صحافی افتخار سیماب کے اصرار پر ڈاکٹرز نے بہانا بنایا کہ ہمارے پاس سرجیکل دھاگہ موجود نہیں اور مریض کو بےیارومددگار چھوڑ دیا
جبکہ صحافی ایم ایس سے رابطہ کیا جسکے بعد نرسنگ سٹاف نے سٹچ لگا کر مریض کو بغیر ایکس رے اور بغیر سی ٹی سکن گھر روانا کر دیا ٹراما سینٹر میں مریضوں نے اپنی فریاد شروع کر دی لوگوں نے بات کرتے ہوۓ کہا کہ جب بھی کوٸی مریض ٹراما سینٹر لایا جاتا ہے تو ڈاکٹرز اسے چکوال یا راولپنڈی ریفر کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے کٸی افراد رستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ ایک مافیا ہے انکو انسانی جان کی پروا نہیں موٹروے کے قریب ٹراما سینٹر بنانے کا مقصد لوگوں کی جان بچانا تھا لیکن یہ لوگ اگر ڈیوٹی پر آ بھی جاٸیں تو موباٸل سے ہی فرصت نہیں ملتی ایک سٹاف اہلکار نے بات کرتے کہا کہ ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے ہمارے پاس پہلے ہی سٹاف کم ہے اور جو موجود ہے وہ بے رحم کسی کی سنتے ہی نہیں
اہل علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ اگر ٹراما سینٹر میں تجربہ کار اور ذمہ دار ڈاکٹرز کی ٹیم کو لگایا جاۓ اگر ممکن نہیں تو ٹراما سیٹر کو ختم کر کے کروڑوں روپے کی مشینز اور اربوں روپے کی جگہ کسی نیک کام میں وقف کی جاۓ اگر ٹراما سینٹر نہیں ہو گا تو ہم جو ایک امید لے کر گھنٹوں ذلیل ہونے کے بعد چکوال یا پنڈی جاتے ہیں وہ ذلالت ہماری بچ جاۓ گی
www.dostnews.com
www.thereportdigital.com
www.dostmarketing.pk
