مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,447 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,447
قومی

معاشی بہتری کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے برآمدات میں اضافے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
معاشی بہتری کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے برآمدات میں اضافے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

معاشی بہتری کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے برآمدات میں اضافے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔25 اکتوبر: پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق، تمغہ امتیاز ،نے کہا ہے کہ بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے، مالی معاونت کے ذرائع متنوع بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے حکومت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے زیادہ قابل اعتماد اور پائیدار حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔اتوار کو پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں عالمی سرمایہ منڈیوں تک پاکستان کی رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کا اظہار رواں سال پانڈا بانڈز اور یورو بانڈز کے اجرا سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرض دہندگان اور مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے سے کسی ایک قرض دہندہ پر انحصار اور مالی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسابقت کو بہتر بنانے پر توجہ بھی قابل تحسین ہے، تاہم اصل چیلنج ان اہداف کو مستقل اور ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ میاں کاشف اشفاق کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ملکی معیشت کو بیرونی مالی دباؤ سے بچانے کے لیے ایک اہم حفاظتی سہارا فراہم کرتے ہیں، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے۔ تاہم قرضوں کی ادائیگیوں، توانائی کی درآمدات اور سرمائے کے بیرون ملک اخراج کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں دوبارہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی بجٹ سرپلس میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں شامل نہیں ہوتیں، حالانکہ حکومتی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اور بنیادی بجٹ سرپلس اہم معاشی کامیابیاں ضرور ہیں، لیکن یہ مضبوط برآمدی آمدنی کا متبادل نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ملک کو سستی توانائی، صنعتوں کے لیے مسابقتی قیمتوں پر خام مال، برآمدات کے وسیع تر شعبوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کو کم قیمت مصنوعات کے بجائے زیادہ قدر والی مصنوعات کی طرف منتقل کرنا ہوگا، جبکہ آئی ٹی، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور دیگر قابل تجارت شعبوں کو بھی مسلسل حکومتی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی پالیسی کا اصل امتحان ایسی معیشت کی تشکیل ہے جو اپنی مالی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور بیرونی قرضوں و مالی معاونت پر انحصار بتدریج کم کر سکے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں