مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر عالمی سفارتی صف بندی، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس
مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر عالمی سفارتی صف بندی، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس
*ایران امریکہ اسرائیل تنازع، سعودی عرب پر حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز و باب المندب کی صورتحال پر غور، آٹھ ممالک کا جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور سفارت کاری کے ذریعے بحران حل کرنے پر اتفاق، پاکستان نے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی ثالثی کوششوں سے آگاہ کر دیا*
استنبول: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم عالمی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل علاقائی گروپ آر فور (R4) کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ استنبول میں اہم اجلاس منعقد کیا۔ آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی اس غیر معمولی سفارتی بیٹھک میں ایران امریکہ اسرائیل تنازع، سعودی عرب کی سلامتی، یمن میں حوثی ملیشیا کی کارروائیاں، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت کو لاحق خطرات اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل پر جنگ کے اثرات زیر بحث آئے۔
23 اکتوبر کو ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔ دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق اس اجلاس میں اسحاق ڈار نے اپنے ہم منصبوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکانات روکنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔ تمام وزرائے خارجہ نے اس سفارتی فارمیٹ کے تحت رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ وزرائے خارجہ نے اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکا نے واضح کیا کہ مزید فوجی کارروائیاں پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی تک پہنچ سکتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں ایران امریکہ اسرائیل تنازع کے تناظر میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔
اجلاس میں سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور حملے فوری طور پر بند کرے اور سیاسی عمل کی طرف واپس آئے۔
آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بھی اجلاس کا اہم موضوع رہی۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چین، تیل و گیس، کھاد اور غذائی اجناس کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں اور عام آبادیوں کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اعلامیے میں آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
فلسطین کے معاملے پر وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قبضے کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد، غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس اجلاس کی غیر معمولی اہمیت اس بات میں ہے کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے علاقائی سفارتی اتحاد نے فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ کے بحران، عالمی بحری راستوں کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر مشترکہ مشاورت کی۔ یہ اجلاس اس امر کا بھی اظہار ہے کہ خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے اثرات اب عالمی طاقتوں، یورپی معیشتوں اور بین الاقوامی تجارتی نظام کے لیے بھی بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
