پاکستان اور عمان کا کثیر الجہتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور عمان نے منگل 14 اکتوبر 2026 کو مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے، یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کی ملاقات میں کیا گیا۔ عمانی وزیر خارجہ پاکستان اور عمان کی جوائنٹ منسٹریل کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کے لیے دورہ پاکستان پر ہیں۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
- پاکستان اور عمان کے مابین میڈیا، آئی ٹی، اور تاریخی دستاویزات کے تبادلے کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
- عمان کے وزیر خارجہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
پاکستان اور عمان کے درمیان دوطرفہ تعاون کا فروغ
وزیراعظم ہاؤس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے عمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ عقیدے، جغرافیائی قربت، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے حامل برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عمان کو ایک اہم سمندری پڑوسی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم خطے میں ایک قابل قدر ساتھی قرار دیا۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ناگزیر ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان برادر ممالک کے ساتھ تجارتی و سفارتی روابط مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
وزیراعظم نے جوائنٹ منسٹریل کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس باہمی تعاون کی توسیع اور دوطرفہ تعلقات کی گہرائی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی فیشن اور ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور صنعتی و تعلیمی اشتراک کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے اثرات دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
سفارتی معاہدے اور علاقائی صورتحال
عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے پاکستانی حکومت کی جانب سے ملنے والی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے فائدے کے لیے متنوع شعبوں میں تعاون کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے علاقائی چیلنجوں کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی مستقل سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی و علاقائی مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے عمان کے اصولی موقف کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم کی موجودگی میں جوائنٹ منسٹریل کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ میڈیا، خبروں کے تبادلے، تاریخی ریکارڈ اور آرکائیوز مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سفارتی وفود کے تبادلوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا چین سے آئے وفد سے مذاکرات کے بعد، اب عمان کے ساتھ ہونے والے یہ نئے معاہدے پاکستان کے لیے معاشی استحکام کی نوید ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ جے ایم سی اجلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان اور عمان کے درمیان جے ایم سی کا کون سا اجلاس منعقد ہوا؟
پاکستان اور عمان کے درمیان جوائنٹ منسٹریل کمیشن کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کر رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران کن شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے؟
دونوں ممالک نے میڈیا، خبروں کے تبادلے، تاریخی دستاویزات، آرکائیوز مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سفارتی وفود کے تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
