قبائلی وسائل کے معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں، فضل الرحمٰن کا پشاور کنونشن سے خطاب
جے یو آئی سربراہ نے قبائلی اضلاع کے انتظامی مستقبل اور ایمرجنسی پر سوالات اٹھا دیے؛ سیاسی تنقید کا جواب دلیل سے دینے پر زور، خواجہ آصف اور گورنر خیبر پختونخوا کے بیانات پر بھی ردعمل
پشاور، 2 نومبر 2026 — جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل سے متعلق معاہدے عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت معدنیات کی تلاش اور ترقی کی مخالف نہیں، تاہم ان وسائل کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں میں شفافیت ضروری ہے۔
پشاور میں جمعیت فاٹا کے ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قبائلی اضلاع کے انتظامی مستقبل، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات پر تنقید کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ قبائلی علاقوں کے معاملات کو صرف آئینی یا انتظامی بحث تک محدود نہیں کیا جاسکتا، بلکہ وہاں موجود وسائل اور مقامی آبادی کے مفادات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
قبائلی انضمام اور انتظامی نظام پر سوالات
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انضمام کے باوجود قبائلی اضلاع میں بندوبستی علاقوں جیسا انتظامی نظام قائم نہیں ہوسکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اعلیٰ سطح پر انضمام کے فیصلے کو غلط قرار دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلے انضمام کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا تھا اور اب اس کے خاتمے کی تجاویز کیوں سامنے آرہی ہیں۔ ان کے بقول، قبائلی عوام کو مسلسل انتظامی تجربات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایک ہی صوبے میں مختلف انتظامی بندوبست پر بھی اعتراض کیا۔
کوہاٹ میں ایمرجنسی سے متعلق دعویٰ
جے یو آئی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ سرحدی اضلاع کے بعد کوہاٹ ڈویژن کو بھی ایمرجنسی کے دائرے میں لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو راستوں اور وسائل سے متعلق معاملات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس سے اختلاف کرنے والے دلیل کے ساتھ جواب دیں۔
کوہاٹ سے متعلق یہ بات ان کا دعویٰ ہے؛ دستیاب کوریج میں اس کے ساتھ کسی نئے سرکاری نوٹیفکیشن کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
خواجہ آصف اور مخالف سیاسی بیانات پر ردعمل
وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے انہیں اپنا محترم اور بڑا بھائی قرار دیا، تاہم کہا کہ ان کی بات پر غیر ضروری ناراضی ظاہر کی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، لیکن اس سے کارکنوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے آرمی چیف سے بھی شکایت کا اظہار کیا اور کہا کہ موقع ملنے پر اپنے تحفظات ان کے سامنے رکھیں گے۔
افغانستان جانے کے مشورے پر بھی انہوں نے سخت ردعمل دیا۔ خطاب میں انہوں نے چین کی سرمایہ کاری اور امریکی دلچسپی سے متعلق اپنی تشویش ظاہر کی؛ یہ نکات انہوں نے سیاسی اعتراضات اور دعووں کی صورت میں پیش کیے۔
حکومتی مؤقف: وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے
معدنی وسائل کے معاملے پر حکومتی مؤقف مختلف ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں ایک الگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری مقامی لوگوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ یہ بیان کنونشن کی تقریر کے براہ راست جواب کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
وزیر مملکت طلال چوہدری بھی اس سے پہلے اس الزام کو مسترد کرچکے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات کا حصول ہے۔
اسعد محمود کا نظریاتی سیاست اور ڈیجیٹل کارکنوں پر زور
اسی کنونشن میں مفتی اسعد محمود نے کہا کہ جے یو آئی کی سیاست اقتدار کے بجائے نظریے اور اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے قبائلی عوام کے حقوق اور قربانیوں کے اعتراف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جماعت عوامی حقوق کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے تحریک انصاف سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کو پشاور میں اپنی عوامی حمایت دکھانے کا چیلنج بھی دیا۔
ڈیجیٹل میڈیا کارکنوں کا ذکر کرتے ہوئے اسعد محمود نے رضاکارانہ کام کرنے والے نوجوانوں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا مؤقف عوام تک پہنچانے اور مخالف پروپیگنڈے کا جواب دینے میں ان کارکنوں کا اہم کردار ہے۔
