ملک دھرنوں اور ہڑتالوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، اشرف بھٹی
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ ملک موجودہ حالات میں دھرنوں، ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیشرفت خوش آئند ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ فریقین کو ملکی مفاد اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے افہام و تفہیم سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
تاجر برادری کی مشکلات اور معاشی نقصانات
اشرف بھٹی نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مفاد کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے تاہم مرکزی شاہراہ کی مسلسل بندش سے دکانداروں کا کاروبار تباہ ہو رہا ہے۔ سانحۂ پمز کی آڑ میں تاجروں کو اجتماعی سزا دینا ناقابلِ قبول ہے، اور موجودہ صورتحال نے تاجروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس میں اکثریت ان تاجروں کی ہے جنہوں نے ماہانہ لاکھوں روپے کرائے کی ادائیگی کے ساتھ ملازمین کے اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔
مذاکرات کی کامیابی ملک کے بہترین مفاد میں ہے
انہوں نے کہا کہ فریقین سے اپیل ہے کہ وہ ملک کے بہترین مفاد میں مذاکرات میں تیزی لائیں تاکہ مسائل کا جلد از جلد حل ممکن ہو سکے۔ جیسا کہ ملک میں ترقیاتی کاموں پر بھی زور دیا جا رہا ہے، جیسا کہ راولپنڈی میں ریس کورس پارک اور چیرنگ کراس انڈر پاسز پر کام کل سے شروع ہونے والا ہے، اسی طرح معاشی استحکام کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے۔ انہیں امید ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات جلد کامیاب ہوں گے اور احتجاجی صورتحال کا خاتمہ ہوگا، کیونکہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
