پراپرٹی ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ اور سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد محمود چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں صرف بائیس فیصد شہری اور جائیداد مالکان پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ محدود ٹیکس نیٹ سے حاصل ہونے والی آمدن میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) اور سی ڈی اے کے روزمرہ اخراجات، شہری سہولتوں اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ٹیکس نیٹ کی وسعت وقت کی اہم ضرورت
انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی پوری کرنے کے لیے سی ڈی اے کو تقریباً ہر چھ ماہ بعد قیمتی تجارتی اور رہائشی پلاٹوں کی نیلامی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے باوجود مختلف میگا پراجیکٹس شروع کر دیے جاتے ہیں، جبکہ اسلام آباد کی مارکیٹیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی مرمت، سیوریج، اسٹریٹ لائٹس، پارکنگ، صفائی اور دیگر بنیادی ترقیاتی کاموں سے محروم رہتی ہیں۔ اجمل بلوچ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تجارتی سہولت کاری بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے تناظر میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ پہلے سے باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں اور تاجروں پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ سے باہر رہائشی، تجارتی اور دیگر قابلِ ٹیکس جائیدادوں کو نظام میں شامل کیا جائے۔ ٹیکس کا بوجھ چند شہریوں تک محدود رکھنے کے بجائے منصفانہ طور پر تمام قابلِ ٹیکس جائیدادوں پر تقسیم ہونا چاہیے۔
ادائیگی کے نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹل سروے کا مطالبہ
خالد محمود چوہدری نے کہا کہ چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی ہدایت پر واجبات کی وصولی کے نظام میں بہتری پیدا کی ہے، تاہم ایم سی آئی کی آمدن اب بھی شہر کے انتظامی اور ترقیاتی اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیاں، رہائشی منصوبے اور دیگر جائیدادیں ایسی ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس سمیت مختلف میونسپل ٹیکس اور واجبات ادا نہیں کر رہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں فوری اقدامات کی ضرورت: ٹیٹرا پیک جیسے دیگر امور کی طرح شہری انتظامیہ کو اپنی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔
مشاورت کے بغیر نئی پالیسی کا نفاذ ناقابل قبول
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی دارالحکومت کی تمام رہائشی، تجارتی اور دیگر قابلِ ٹیکس جائیدادوں کا جدید اور شفاف ڈیجیٹل سروے کرایا جائے۔ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ٹیکس نیٹ سے باہر جائیدادوں کو بلاامتیاز پراپرٹی ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے اور نادہندگان سے قانون کے مطابق واجبات وصول کیے جائیں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پراپرٹی ٹیکس کی موجودہ شرح میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے اور کسی بھی نئی ٹیکس پالیسی کے نفاذ سے قبل تاجر نمائندوں، رہائشی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بامقصد مشاورت کی جائے۔ اس سلسلے میں اگرچہ گڈانی کو جدید اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ مرکز بنانے پر کام شروع ہو چکا ہے، اسلام آباد میں بھی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مناسب حصہ مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں پر خرچ کیا جانا ضروری ہے۔
