سپریم کورٹ کا حکم: نورین نیازی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سپریم کورٹ کے اہم عدالتی حکم کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی۔ عدالتی فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی کو اہل خانہ سے باقاعدگی سے ملاقات اور اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی طبی رپورٹ میں اینگزائٹی لیول تھری پلس کا انکشاف ہونے کے تناظر میں ان کی صحت، طبی معائنے، اسپتال منتقلی اور اہل خانہ سے ملاقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ قیدی کو اس کے اہل خانہ سے ملاقات کا حق محض جیل انتظامیہ کی صوابدید یا کسی قسم کی رعایت نہیں بلکہ بنیادی اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔
ملاقاتوں کا حق بحال اور عدالتی احکامات
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عمران خان کے اہل خانہ کے ساتھ ہفتہ وار ملاقاتوں کا سلسلہ یقینی بنایا جائے اور ملاقات کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ عدالتی حکم کے بعد نورین نیازی اڈیالہ جیل پہنچیں، جہاں جیل انتظامیہ نے عدالتی ہدایات کے مطابق انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی۔ اس پیش رفت کو پی ٹی آئی کے حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی رہنما اور عمران خان کے اہل خانہ گزشتہ عرصے سے جیل میں ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
طبی معائنہ اور اسپتال منتقلی کے احکامات
سماعت کے دوران عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی خصوصی طور پر زیر بحث آیا۔ عدالت نے ان کے جامع طبی معائنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اس مقصد کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی گئی، جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو شامل کرنے کی بات کی گئی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قیدی کی صحت سے متعلق معاملات میں شفافیت، مناسب طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ طبی معائنے کا مقصد عمران خان کی موجودہ صحت کی صورتحال کا مکمل جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق علاج اور طبی سہولیات فراہم کرنا قرار دیا گیا ہے۔
قانونی پس منظر اور مستقبل کے اثرات
عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات کے باعث زیر حراست ہیں۔ توشہ خانہ کیس سے شروع ہونے والی قانونی کارروائی کے بعد انہیں متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ القادر ٹرسٹ یا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بھی انہیں سزا سنائی جا چکی ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، عمران خان بیمار ہیں تو طبی سہولت ملنی چاہیے، شرجیل میمن کے بیان کے بعد یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث رہا۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے عدالتی فیصلے پر کہا گیا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کرے گی۔ عدالتی فیصلے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ عمران خان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کا نظام باقاعدگی سے جاری رہے گا اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کے لیے بھی مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔ قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام زیر حراست افراد کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی اہم مثال بن سکتا ہے۔ عمران خان سے متعلق فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، فضل الرحمان نے بھی اس قسم کے معاملات پر تبصرہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے یہ اصول مزید واضح ہوا ہے کہ قیدی کو سزا ملنے کے باوجود اس کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے اور جیل انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
