وفاقی وزیر تجارت جام کمال سے اسلام آباد چیمبر وفد کی ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پیر کے روز اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے ایک وفد نے تفصیلی ملاقات کی۔ وزارت تجارت کے ترجمان کے مطابق اس اہم نشست کے دوران ایس ایم ایز (SMEs)، ٹیکس اصلاحات، صنعتی انفراسٹرکچر کی بہتری اور ملک میں کاروباری آسانیوں (Ease of doing business) کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت کا کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کا عزم
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ اور ملکی سطح پر صنعتی انقلاب لانے کے لیے ہر ممکن کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کیا جائے گا اور کاروباری عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا جائے گا۔ جام کمال خان نے مزید کہا کہ کاروبار کی رجسٹریشن کے نظام کو انتہائی سہل بنایا جا رہا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں حقیقی توسیع نئے کاروباروں کی دستاویزی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔ یوفون اور ٹیلی نار انضمام: حکومت کی ای اینڈ برانڈنگ پر پابندی جیسے اقدامات بھی معاشی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
ایس ایم ایز اور معاشی ترقی کی حکمت عملی
وفاقی وزیر نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایس ایم ای کی نئی تعریف متعارف کروانا کاروباری شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں جدید چھوٹے صنعتی زونز کے قیام کی تجویز زیر غور ہے، جس سے نہ صرف مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیر تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ فوڈ انڈسٹری اور ای کامرس پاکستان کی معیشت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جدید سلاٹر ہاؤس (ذبیحہ خانہ) کے قیام سے حلال گوشت کی برآمدات کو عالمی معیار کے مطابق فروغ ملے گا اور لائیو اسٹاک ویلیو چین میں ویلیو ایڈیشن سے قومی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔
ایس ایم ای اسپیشل اکنامک زون کا قیام
ملاقات کے دوران اسلام آباد چیمبر کی جانب سے چھوٹے تاجروں اور صنعتوں کے لیے 100 ایکڑ اراضی پر خصوصی اکنامک زون (Special Economic Zone) قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ وفاقی وزیر تجارت نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ضمن میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے وفد کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ایک ٹھوس اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کریں، تاکہ اس پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی تعاون بڑھانے پر اتفاق کے بعد حکومت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی اہم ٹیلی فونک گفتگو بھی معاشی و سائنسی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
