ملکی ترقی کیلئے برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی، احسن اقبال
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا انحصار پائیدار توانائی، جدت اور صنعتی توسیع پر ہے اور ہمیں درآمدی انحصار سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز لاہور ایکسپو سینٹر میں جدید الیکٹرک وہیکلز اور توانائی پاکستان نمائش کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ای وی (EV) کا انقلاب برپا ہو چکا ہے اور الیکٹرک وہیکلز کا فروغ ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک وہیکلز اور گرین انرجی کی جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور پائیدار ترقی کا انحصار برآمدات میں خاطر خواہ اضافے پر ہے۔ ملک کو تیزی سے درآمدات پر مبنی معیشت سے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ای وی کو متعارف کرائیں اور ٹو ویلرز، تھری ویلرز اور فور ویلرز کو مرحلہ وار برقی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ اس حوالے سے حکومت نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے 80 ہزار روپے تک سبسڈی سمیت مختلف مراعات دی ہیں جبکہ حالیہ بجٹ میں ای وی گاڑیوں پر ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ ان کو ملک میں زیادہ سے زیادہ متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پاور سیکٹر میں 6 سے 8 ہزار میگاواٹ سولر انرجی کے ذریعے توانائی کا ایک بفر پیدا کیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کرکے ملکی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ہماری برآمداتی صلاحیت پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور نجی شعبے کو برآمدات میں اضافے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے۔ احسن اقبال نے ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ ٹیکسوں کی اسیسمنٹ میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً ساڑھے 9 فیصد ہے، جبکہ ترقی کرنے والے ہم پلہ ممالک میں یہ شرح 14 سے 16 فیصد تک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری کا خاتمہ اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے معرکہ حق جیتا اور اپنے روایتی حریف کو دندان شکن جواب دیا تو اس کی ہزیمت میں اب اس نے بزدلانہ طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے غیر روایتی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ جس طرح ہم نے روایتی جنگ میں شکست دی، اسی طرح ان شاء اللہ اس غیر روایتی جنگ میں بھی دشمن کے عزائم کو زمین بوس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری کے ذریعے دنیا میں امن پسند ملک کے طور پر نئے تشخص کے ساتھ ابھرا ہے، جبکہ ملکی معیشت بھی طویل عرصے بعد بحالی کی جانب گامزن ہے۔ ماضی میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، ملک کی خوش قسمتی تھی کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور ملک اس عذاب سے بچ نکلا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں انہیں ایڈجسٹ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کرے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران مذاکرات اور معاہدے کی طرف واپس آئیں گے تاکہ خطے میں امن قائم ہو اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
