مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 11 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.87 EUR/PKR 310.24 GBP/PKR 366.26 سونا/تولہ 435,610 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,901 USD/PKR 276.87 EUR/PKR 310.24 GBP/PKR 366.26 سونا/تولہ 435,610 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,901
قومی

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا میڈیا ورکرز برطرفیوں پر تشویش کا اظہار

📅 جمعہ، 24 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا میڈیا ورکرز برطرفیوں پر تشویش کا اظہار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے پاکستان میں میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، بقایا تنخواہوں کی عدم ادائیگی، آزادیٔ صحافت پر بڑھتے دباؤ اور لیبر قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے نام ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

میڈیا انڈسٹری میں روزگار کے تحفظ کا مطالبہ

خط میں آئی ایف جے نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ میڈیا انڈسٹری میں روزگار کے تحفظ کو یقینی بنائے، صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی بقایا تنخواہیں فوری ادا کرائے اور تمام میڈیا اداروں کو ملکی لیبر قوانین پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائے۔ آئی ایف جے نے مطالبہ کیا کہ جنگ گروپ، دنیا میڈیا گروپ، ایک نیوز، سنو نیوز، آج نیوز، ایکسپریس نیوز، نیوز ون اور نکتا سمیت دیگر میڈیا اداروں میں ہونے والی حالیہ جبری برطرفیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر لیبر قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

قوانین اور صحافیوں کے حقوق

خط میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ملازمین کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر، مناسب نوٹس اور واجب الادا معاوضے کی ادائیگی کے بغیر ملازمت سے فارغ کرنا بین الاقوامی اور قومی لیبر اصولوں کے منافی ہے۔ آئی ایف جے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور فری لانس میڈیا ورکرز کو بھی دیگر کارکنوں کی طرح مکمل قانونی اور لیبر تحفظ فراہم کیا جائے۔ مزید برآں، بین الاقوامی تنظیم نے صحافیوں کو ہراساں کرنے، آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے اور صنعتی آٹومیشن جیسے پیچیدہ ماحول میں اظہار رائے پر اثر انداز ہونے والے قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا۔ خط میں کہا گیا کہ صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے، سائبر کرائم قوانین اور دیگر قانونی دفعات کے مبینہ غلط استعمال کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ صحافی آزادانہ اور محفوظ ماحول میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

جمہوری نظام اور میڈیا کا کردار

آئی ایف جے نے خبردار کیا کہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اس وقت شدید مالی اور پیشہ ورانہ بحران سے گزر رہی ہے، جس پر فوری حکومتی توجہ نہ دی گئی تو آزاد صحافت مزید کمزور ہوگی اور جمہوری نظام پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ایک مضبوط جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے بھی آئی ایف جے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا مالکان کو لیبر قوانین کی پابندی کا سختی سے پابند بنایا جائے تاکہ صحافیوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہو۔ آئی ایف جے نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے عالمی توانائی کمپنیوں کے متبادل کی طرح میڈیا انڈسٹری میں بھی ریگولیٹری اصلاحات لائے، جیسا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فورمز پر دیگر امور کے لیے بین الاقوامی معیار اپنانے کی بات کرتے ہیں۔

ٹیگز: #آزادی صحافت #انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس #پاکستان میڈیا #پی ایف یو جے #صحافیوں کے حقوق
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں