مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $67,200 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $67,200
قومی

امریکی تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس میں اے آئی استعمال کرنے لگے

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
امریکی تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس میں اے آئی استعمال کرنے لگے (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

امریکی تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس میں اے آئی استعمال کرنے لگے

واشنگٹن: امریکا کے تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ سامنے آگیا، جہاں ایک سروے کے مطابق 95 فیصد انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ طلبہ اسائنمنٹس اور تعلیمی پروجیکٹس کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا طلبہ واقعی علم حاصل کر رہے ہیں یا تعلیمی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ مشینوں کے حوالے کرتے جا رہے ہیں؟

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کلیریویٹ (Clarivate) کے ایک سروے میں 500 سے زائد انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ طلبہ کی آرا شامل کی گئیں۔ سروے کے مطابق 2024 میں اسائنمنٹس کے لیے اے آئی استعمال کرنے والے طلبہ کی شرح 45 فیصد تھی، جو بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ تعلیمی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک معاون ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ طلبہ کے تعلیمی معمولات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

سروے کے مطابق تقریباً 61 فیصد طلبہ اے آئی سے مضامین اور تحقیقی مواد کا خلاصہ تیار کراتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد تحقیقی موضوعات اور نئے خیالات مرتب کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے مدد لیتی ہے۔ تقریباً 51 فیصد طلبہ تحقیقی مقالے لکھنے اور ان کی تدوین میں بھی اے آئی استعمال کرتے ہیں۔

یہ صورت حال تعلیم کے بنیادی مقصد کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر طالب علم کسی موضوع کو سمجھنے، دلائل ترتیب دینے، تحقیق کرنے اور اپنے خیالات تحریر کرنے کے لیے مسلسل اے آئی پر انحصار کرے تو اس کی آزادانہ سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور مسئلے حل کرنے کی مہارتیں کس حد تک پروان چڑھیں گی؟ اس کا جواب محض ٹیکنالوجی کے استعمال کی شرح سے نہیں، بلکہ طلبہ کی حقیقی تعلیمی کارکردگی سے ملے گا۔

امریکی تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس میں اے آئی استعمال کرنے لگے (تصویر 2)

تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح تعین کریں کہ جمع کرایا گیا اسائنمنٹ طالب علم کی اپنی محنت اور فہم کا نتیجہ ہے یا اس کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت نے تیار کیا ہے۔ جب اے آئی چند لمحوں میں مضمون، خلاصہ، تحقیقی خاکہ اور دلائل مرتب کر سکتی ہے تو روایتی اسائنمنٹ سسٹم کی افادیت اور جانچ کے طریقوں پر نظرثانی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔

اس معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر طلبہ معلومات حاصل کرنے کے بجائے صرف تیار شدہ جوابات جمع کرانے کو ترجیح دینے لگیں تو ڈگری اور حقیقی قابلیت کے درمیان فرق بڑھ سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے گریجویٹس کی عملی صلاحیتوں پر سوال اٹھ سکتے ہیں جن کے تعلیمی نتائج تو بہتر ہوں، لیکن وہ خود تحقیق کرنے، پیچیدہ مسائل سمجھنے اور آزادانہ فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا کریں۔

تاہم 95 فیصد طلبہ کا اے آئی استعمال کرنا لازماً نقل یا تعلیمی بددیانتی کا ثبوت نہیں۔ مصنوعی ذہانت تحقیق، زبان کی اصلاح اور مشکل تصورات سمجھنے میں مفید معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاون ٹیکنالوجی طالب علم کی اپنی سوچ، محنت اور سیکھنے کے عمل کی جگہ لے لے۔

اے آئی کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے تعلیمی دنیا کو ایک اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب اصل امتحان صرف طلبہ کا نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کا بھی ہے: کیا وہ ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کو سمجھ داری سے استعمال کرے، یا ایسی نسل جو جواب حاصل کرنے میں تو ماہر ہو لیکن خود سوچنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے؟

یہ محض ایک نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کا معاملہ نہیں، بلکہ مستقبل کی تعلیم، انسانی ذہانت، علمی دیانت اور حقیقی قابلیت کا سوال ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں