قومی آبادی استحکام منصوبہ 2026-2036 کے مسودے پر اعلیٰ سطحی جائزہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور وفاقی وزیر برائے صحت کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی آبادی استحکام منصوبہ 2026–2036 کے ابتدائی مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اہم پیش رفت کے تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت ملک میں سماجی و اقتصادی استحکام کے لیے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کے بعد درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے دوران قومی آبادی استحکام منصوبہ 2026–2036 کے ابتدائی مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں آبادی کی شرح کو متوازن رکھنے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ منصوبے کا حتمی مسودہ وزارت منصوبہ بندی اور وزارت قومی صحت مشترکہ طور پر تیار کریں گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ حتمی مسودہ منظوری اور مشاورت کے لیے تمام صوبوں کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد اسے مزید غور و خوض کے لیے قومی آبادی کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جس طرح حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا ہے، اسی طرح صحت اور آبادی کے شعبوں میں بھی پالیسی سازی کے عمل کو تیز کیا گیا ہے۔ دونوں وفاقی وزرا نے ملک کو درپیش آبادی کے چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں پائیدار استحکام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون، موثر رابطہ کاری اور ہم آہنگی انتہائی اہم ہے، جیسا کہ دیگر اہم امور میں بھی قومی یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی جھلک پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسے فیصلوں میں نظر آتی ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری صحت، ڈی جی پاپولیشن، ممبر (پاپولیشن) وزارت منصوبہ بندی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
