امریکی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کی داخلہ درخواستوں میں نمایاں کمی
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکا میں سخت ہوتی ویزا پالیسیوں اور اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کی بڑھتی ہوئی مستردگی کے باعث بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے امریکی جامعات میں داخلے کی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ طلبہ کے ویزا مسترد ہونے کی شرح گزشتہ ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
VnExpress کی رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں تقریباً 60 فیصد امریکی کالجز اور جامعات نے بتایا ہے کہ تعلیمی سال 2026-27 کے لیے غیر ملکی طلبہ کی درخواستوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سخت ویزا قواعد، طویل پراسیسنگ، زیادہ مستردگی اور پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے ہزاروں طلبہ کو امریکا کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی ویزا پالیسیوں میں سختی کا اثر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی F-1 اسٹوڈنٹ ویزا مسترد ہونے کی شرح 2025 میں گزشتہ دس برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ جنوبی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ کو ویزا حاصل کرنے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے بعد سے طلبہ اب مختلف ممالک کے تعلیمی مواقع کا موازنہ کر رہے ہیں۔
مالی اور تعلیمی چیلنجز
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی امریکی جامعات کے لیے مالی اور تعلیمی دونوں اعتبار سے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ بہت سے تعلیمی ادارے غیر ملکی طلبہ کی فیسوں پر نمایاں حد تک انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو کئی جامعات کو مالی دباؤ، تحقیقی سرگرمیوں میں کمی اور عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ویزا پالیسیوں میں سختی کے باعث اب بڑی تعداد میں بین الاقوامی طلبہ امریکا کے بجائے کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے دیگر ممالک کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے ترجیح دے رہے ہیں، جس سے عالمی تعلیمی رجحانات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تناظر میں مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے تاکہ تعلیمی اور انسانی وسائل کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔ اسی طرح پاکستان اور کینیڈا کا تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق بھی ایک اہم پیش رفت ہے جو طلبہ کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔
