مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,600 PKR Bitcoin $80,858 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,600 PKR Bitcoin $80,858
تازہ ترین

اسلام آباد میں صحت کی سہولیات: طبی نظام، چیلنجز اور مستقبل

📅 ✍️ ⏱ 6 منٹ
اسلام آباد میں صحت کی سہولیات: طبی نظام، چیلنجز اور مستقبل
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد صرف ملکی انتظامی مرکز ہی نہیں بلکہ صحت کی جدید سہولیات کا بھی اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے تقریباً ہر صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہزاروں مریض روزانہ علاج کی امید لیے اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں ایک طرف جدید سرکاری تدریسی ہسپتال، سپیشلائزڈ انسٹی ٹیوٹ اور ریسرچ مراکز موجود ہیں تو دوسری جانب نجی شعبے نے بھی عالمی معیار کے کئی ہسپتال قائم کیے ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی آبادی، بیرونی اضلاع سے آنے والے مریضوں کا غیر معمولی دباؤ، محدود وسائل، مہنگا علاج، ڈاکٹروں کی کمی اور صحت کے بجٹ میں مالی دباؤ ایسے عوامل ہیں جو اس نظام کو مسلسل آزمائش میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ خصوصی تحقیقی رپورٹ اسلام آباد کے صحت کے نظام کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں سرکاری و نجی ہسپتالوں، بجٹ، اخراجات، مریضوں، ڈاکٹروں اور مستقبل کے چیلنجز کا تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔

اسلام آباد: صرف دس لاکھ نہیں، کروڑوں افراد کا طبی مرکز

اسلام آباد کی مستقل آبادی تقریباً 25 سے 30 لاکھ کے درمیان ہے، لیکن علاج کے لیے آنے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ روزانہ ہزاروں مریض راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، مری، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ خصوصاً پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS)، پولی کلینک، فیڈرل جنرل ہسپتال، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن (NIRM)، شفا انٹرنیشنل، پمز چلڈرن ہسپتال اور دیگر ادارے پورے شمالی پاکستان کے لیے ریفرل مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق صرف PIMS میں روزانہ تقریباً 7,000 سے 9,000 مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ تیمارداروں سمیت روزانہ 30 سے 40 ہزار افراد اس ہسپتال سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ ہسپتال اسلام آباد کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دیگر دور دراز علاقوں کے مریضوں کا بھی سب سے بڑا ریفرل مرکز ہے۔

صحت کا وفاقی بجٹ: اربوں روپے کہاں خرچ ہوتے ہیں؟

وفاقی حکومت ہر سال صحت کے شعبے کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے۔ حالیہ بجٹ دستاویزات کے مطابق ٹرشری ہیلتھ کیئر (Tertiary Healthcare) یعنی PIMS، پولی کلینک، NIRM، فیڈرل جنرل ہسپتال، کینسر اور ٹی بی مراکز سمیت بڑے وفاقی اداروں کے لیے 16 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کی پرائمری اور سیکنڈری صحت کی سہولیات اور ICT ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے لیے بھی الگ فنڈز رکھے گئے ہیں، جبکہ قومی ادارۂ صحت (NIH)، حفاظتی صحت، ویکسینیشن اور دیگر پروگراموں کے لیے بھی الگ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے نئی ترقیاتی اسکیمیں بھی شامل ہیں، جن میں اسلام آباد کینسر ہسپتال، PIMS میں جدید کارڈیک سہولیات کی توسیع، ہیپاٹائٹس اور ذیابیطس کے قومی پروگرام شامل ہیں۔

ترقی کے باوجود دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟

اسلام آباد میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جدید ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں: صوبوں میں سپیشلائزڈ علاج کی محدود سہولیات۔ جدید سرجری اور پیچیدہ بیماریوں کے لیے اسلام آباد پر انحصار۔ وفاقی اداروں کے ملازمین کا علاج بھی اسلام آباد میں ہونا۔ میڈیکل تعلیم اور تربیت کے بڑے مراکز کا دارالحکومت میں ہونا۔ اسی وجہ سے اکثر سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔

سرکاری اور نجی شعبہ: دو مختلف دنیاں

اسلام آباد کا صحت کا نظام بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا سرکاری شعبہ، جہاں کم یا بغیر فیس علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسرا نجی شعبہ، جہاں جدید مشینری، مختصر انتظار اور خصوصی سہولیات تو موجود ہیں، مگر علاج کی لاگت عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو سکتی ہے۔ نجی شعبے میں شفا انٹرنیشنل، اسلام آباد اسپیشلائزڈ کلینکس، مختلف سپیشلسٹ ہسپتال اور سینکڑوں نجی کلینکس شہریوں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری شعبہ زیادہ تر کم آمدنی والے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کا سہارا ہے۔

صحت صرف ہسپتال نہیں، ایک مکمل نظام ہے

ماہرین کے مطابق کسی بھی شہر کے صحت کے نظام کا معیار صرف بڑے ہسپتالوں سے نہیں بلکہ بنیادی مراکز صحت، حفاظتی ٹیکہ جات، بیماریوں کی بروقت تشخیص، صاف پانی، ماحولیاتی تحفظ، ایمرجنسی سروسز اور تربیت یافتہ انسانی وسائل سے بھی ناپا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں اگرچہ دیگر شہروں کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچہ نسبتاً بہتر ہے، مگر آبادی میں مسلسل اضافہ اور ریفرل مریضوں کا دباؤ مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے۔

تحقیقی جائزہ

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد کا صحت کا نظام صرف دارالحکومت کے رہائشیوں تک محدود نہیں بلکہ شمالی پاکستان کے لاکھوں افراد کی امید بھی ہے۔ جدید طبی سہولیات کی موجودگی اس کی بڑی طاقت ہے، مگر مریضوں کی غیر معمولی تعداد، محدود بستروں، بڑھتے ہوئے اخراجات اور افرادی قوت پر دباؤ ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے بغیر یہ نظام آئندہ برسوں میں مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ (جاری ہے…)

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں