نورین نیازی کا بیان ریاست مخالف اور شرمناک ہے، بلال اظہر کیانی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی بہن نورین نیازی کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ‘شرمناک’ اور ‘ریاست مخالف’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کے دفاع، سفارت کاری اور معیشت کو سیاسی مقاصد کے لیے نقصان پہنچانے والی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اتوار کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ گزشتہ برس ‘معرکہ حق’ میں پاکستان کی کامیابی سے متعلق نورین نیازی کا منفی بیان کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی پاکستانی ایسا بیان دے سکتا ہے اور اگر یہ ریاست مخالف نہیں تو پھر کیا ہے۔
قومی مفادات اور پی ٹی آئی کا کردار
وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل ایسے اقدامات کرتی آئی ہے جن سے قومی مفادات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات، سائفر کو سفارتی تعلقات متاثر کرنے کے لیے استعمال کرنے اور آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر حکومت بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز مہم جاری رکھے گی، بیرسٹر عقیل ملک پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی مبینہ کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایسی باتیں ان پاک فضائیہ کے بہادر پائلٹس اور افواجِ پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں کی توہین ہیں جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
شہداء کی قربانیوں پر فخر
انہوں نے کہا کہ وہ ضلع جہلم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شہداء کی قربانیوں پر فخر کیا جاتا ہے اور ایسے بیانات شہداء کے اہلِ خانہ کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نورین نیازی کی جانب سے اب تک اپنے بیان کی نہ تو وضاحت کی گئی اور نہ ہی اسے واپس لیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ اس معاملے پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
انہوں نے کہا کہ ریاست اور قومی سلامتی کے خلاف ایسے بیانیے کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان نے ‘معرکہ حق’ میں بھارتی جارحیت کا موثر جواب دے کر کامیابی حاصل کی تاہم افسوس کہ بعض عناصر پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے سفر میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے خلاف نفرت پر مبنی بیانات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس حوالے سے قانونی کارروائی ناگزیر ہے، جبکہ پولیس اہلکاروں کے قاتلوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، آئی جی آزاد کشمیر نے بھی قانون کی بالادستی پر زور دیا ہے۔
