وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ملک کی معاشی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور گورنر سٹیٹ بینک سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
خطے کی صورتحال اور معاشی استحکام
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے، جس کے پیش نظر ہمیں ہر ممکنہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے الرٹ رہنا ہوگا۔ وزیراعظم نے معیشت کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے ملکی معیشت اس وقت مستحکم ہے، تاہم مستقبل کے تحفظ کے لیے بروقت اور موثر حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر رعایتی آئل فنانسنگ کی درخواست جیسے اقدامات معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سادگی اور کفایت شعاری مہم
وزیراعظم نے توانائی کی بچت کی قومی مہم میں عوام کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مہم میں عوام نے جس طرح ساتھ دیا، وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی مفاد میں سادگی اور کفایت شعاری کو ایک قومی فریضے کے طور پر اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت حکومتی اقدامات سے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور عام آدمی بالخصوص موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی کے ذریعے ریلیف فراہم کیا گیا۔
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی
اجلاس میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق اور سخت کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے بھی ان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب حکومت ملک کے مختلف شعبوں میں اصلاحات لانے کے لیے کوشاں ہے، جیسا کہ حال ہی میں پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل کی گئی ہیں تاکہ قومی اداروں کو فعال بنایا جا سکے۔
حکومتی عزم
وزیراعظم نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے، لہذا ہمیں ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاشی تحفظ کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ ملکی معیشت پر منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا نوجوانوں پر مبنی جامع مصنوعی ذہانت ویژن بھی حکومت کی ان ترجیحات کا حصہ ہے جو مستقبل کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں۔
